امریکی دعوؤں کے برعکسِ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے باوجود ایران سے منسلک کم از کم 34 ٹینکرز گزرنے میں کامیاب ہو گئے جن میں کئی ایرانی تیل لے جا رہے تھے۔
امریکا نے 13 اپریل کو ایرانی ساحلی پانیوں میں داخلے اور اخراج پر پابندی عائد کی تھی جسے 16 اپریل کو کھلے سمندر تک توسیع دی گئی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں اس اقدام کو ’شاندار کامیابی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ حتمی معاہدے تک پابندیاں برقرار رہیں گی۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق درجنوں جہاز اس ناکہ بندی سے بچ نکلے ہیں جن میں سے کم از کم 6 ٹینکرز میں 10.7 ملین بیرل ایرانی خام تیل لے جایا گیا۔
پابندیوں کے باعث ایرانی تیل برینٹ کروڈ کے مقابلے میں کم قیمت پر فروخت ہو رہا ہے اور اگر فی بیرل 10 ڈالرز رعایت فرض کی جائے تو اس مقدار سے ایران کو تقریباً 910 ملین ڈالرز کی آمدنی حاصل ہوئی ہے۔