• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں آج ایک انکشاف کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ میں انسان نہیں فرشتہ ہوں یعنی اسی طرح گناہوں ، خطاؤں اور لغزشوں سے مبرا ہوں جس طرح فرشتے ہر طرح کی خطا کاریوں حتیٰ کہ جسمانی آلائشوں تک سے پاک ہوتے ہیں۔ چنانچہ مجھے تو باتھ روم جانے کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں قبض کا مریض ہوں بلکہ اللّٰہ تعالی نے مجھے ان تمام آلائشوں سے بھی پاک کر رکھا ہے جو صرف انسانوں کو لاحق ہیں۔ فرشتے نور مجسم ہوتے ہیں اور واضح رہے میں فرشتہ ہوں۔ بد قسمتی سے وہ دوست جو مجھے ذاتی طور پر جانتے ہیں، میرے اس دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے میری شخصیت میں کیڑے نکالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن یہ حاسد لوگ ہیں۔ اور انہیں لوگوں کو مخاطب کر کے بسوں پر جلنے والے کا منہ کالا لکھا ہوتا ہے! میرے متذکرہ دعوے کی تصدیق صرف میرے ناظرین کر سکتے ہیں (جو مجھے ذاتی طور پر نہیں جانتے) وہ مجھے صرف ٹی وی اسکرین پر دیکھتے ہیں جہاں میں لوگوں کے کشتے کے پشتے لگا رہا ہوتا ہوں اور ان کی چھوٹی بڑی غلطیوں کی نشاندہی اتنے جوش و خروش اور غصیلے انداز میں کرتا ہوں کہ میرے ناظرین کو میرے فرشتہ ہونے کا یقین ہو جاتا ہے۔ میں انہیں بتاتا ہوں کہ وہ سب سیاستدان جو اس وقت آسمانِ سیاست پر جگمگاتے یا ٹمٹماتے نظر آتے ہیں، یہ سب کرپٹ ہیں۔ کسی افسر سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو میں اسکا تیا پانچہ کر دیتا ہوں، میں مختلف طبقوں کے افراد کی برائیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر تلاش کرتا ہوں، میرے ہاتھ میں ہر وقت ایک محدب شیشہ ہوتا ہے اس کا فائدہ یہ ہے کہ کوئی چھوٹی برائی بھی اس کے ذریعے بڑی برائی نظر آتی ہے۔ اس کے بعد میں تیل میں بھگویا ہوا دس نمبر لتر ہاتھ میں پکڑتا ہوں اور ان کی چھترول شروع کر دیتا ہوں ۔ مجھے علم ہوتا ہے کہ یہ سب لوگ اپنی سیاسی مجبوریوں یا منصبی تقاضوں کی وجہ سے میری اینٹ کا جواب پتھر تو کیا، کنکر سے دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں چنانچہ ان پر میری یلغار مسلسل جاری رہتی ہے البتہ جو سیاسی جماعت یا معاشرے کا کوئی طاقتور طبقہ حساب برابر کرنا جانتا ہے میں اسے منہ لگانا پسند نہیں کرتا کیونکہ بدتمیزوں کے منہ نہیں لگنا چاہئے جیسا کہ آپ کو میرے اس جملے سے اندازہ ہو گیا ہو گا کہ میں ایسا ان سے ڈرنے کی وجہ سے نہیں کرتا بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ایسے بے لگام طبقوں (جن کی آنکھوں میں کسی چھوٹے بڑے کی شرم یا لحاظ ہی نہیں ہے) کی رسی دراز سے دراز تر کرتے رہنا چاہئے تا آنکہ اللّٰہ تعالی خود ان کی پکڑ کرے، بس یہی وہ سوچ ہے جسکی وجہ سے میں ان کے منہ نہیں لگتامیرے اس رویے پر میرے ناظرین کی بہت بڑی تعداد بے حد خوش ہوتی ہے اور انہیں میرے فرشتہ ہونے کا یقین ہو جاتا ہے ورنہ اگر میں بھی انہی جیسا ایک خطا کار انسان ہوتا تو ایسی جرات کیونکر کرتا؟ میرے ناظرین کے خوش ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ صدیوں سے ذلت کی زندگی گزار رہا ہے لہٰذا جب وہ کسی دوسرے کو ذلیل ہوتے اور اس پر الزام لگتےدیکھتا ہے تو اسے یہ سوچ کر بے حد خوشی ہوتی ہے کہ ایک ہم ہی ذلت سے دوچار نہیں بلکہ یہ ذلت سب میں برابر برابر تقسیم ہو رہی ہے۔ ایک کبڑے سے کسی نے پوچھا تھا کہ ’’کیا تم اللّٰہ تعالیٰ سے اپنا کبڑا پن دور کرنے کی دعا ما نگتے ہو؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’نہیں، میں دعا مانگتا ہوں کہ یا اللّٰہ میری طرح دوسروں کو بھی کپڑا بنا دے‘‘ سو میری بھی خواہش یہی ہے کہ کبڑوں کے شہر میں مجھے کوئی بھی سیدھا چلتا ہوا نظر نہ آئے ، سوائے میرے کہ میں تو فرشتہ ہوں، مجھے یقین ہے کہ میں نے یا آپ نے کبھی کسی کبڑے فرشتے کا ذکر نہیں سنا !لیکن سب لوگ اس راست فکر کے حامل نہیں ہوتے ، کچھ لوگ پیدا ہی ٹیڑھے ہوئے ہوتے ہیں، وہ ساری عمر سیدھے نہیں ہو سکتے۔ یہ بات کتے کی دم کے بارے میں بھی کہی جاتی ہے۔ اس قماش کے لوگوں میں بھولا ڈنگر بھی ہے جو خواہ مخواہ مجھ سے فری ہونے کی کوشش کرتا رہتا ہے حالانکہ اسے علم ہے کہ ایک فرشتہ کسی عام انسان سے فری نہیں ہو سکتا۔ یہی بھولا ڈنگر گزشتہ روز میرے پاس آیا، مجھے اس کا آنا کبھی اچھا نہیں لگا کیونکہ یہ جب بھی آتا ہے ہمیشہ کوئی الٹی بات ہی کرتا ہے چنانچہ اس نے آتے ہیں مجھے مخاطب کیا اور بولا ”تم سب لوگوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے رہتے ہو، ہر ایک پر گھناؤ نے الزام لگاتے ہو تم نے اپنی الگ سے عدالت لگائی ہوئی ہے، کسی کو ملزم ٹھہراتے ہو، اسے الزامات کی فہرست سناتے ہو، پھر خود ہی فیصلہ کر کے اسے مجرم قرار دے دیتے ہو۔ اگر تمہیں اتنا ہی یقین ہے کہ یہ سب کرپٹ ہیں تو تم عدالت میں کیوں نہیں جاتے، کیا تمہیں اس عدلیہ پر بھروسہ نہیں ہے جو قوم نے زبردست جدو جہد کے نتیجے میں آزاد کرائی ہے؟“ میں نے اس بے ہودہ شخص کی بات کا کیا جواب دینا تھا۔ مجھے شدید دکھ ہوا کہ اس شخص کو میری بات کا یقین نہیں اور یہ مجھ پر عدالت کو ترجیح دے رہا ہے چنانچہ میں چپ رہا۔ میری اس چپ پر وہ مزید شیر ہو گیا اور بولا ” تمہیں پتہ ہے تم جیسے لوگ کردار کشی کی اس مہم کے ذریعے لوگوں کو جمہوریت سے مایوس کر رہے ہیں اور انہیں ایک بار پھر کسی فوجی آمر کو قبول کرنےکیلئے ذہنی طور پر تیار کرنے میں مشغول ہو یہ بات پہلی بات سے بھی زیادہ بے ہودہ تھی کیونکہ میں تو اپنے ہر پروگرام میں فوجی آمریت کے خلاف ایک آدھ جملہ بھی بولتا ہوں چنانچہ میں اس بار بھی خاموش رہا۔ یہ دیکھ کر بھولے ڈنگر نے مجھ پر مزید چڑھائی کرتے ہوئے کہا " میں جانتا ہوں جس طرح ہمارے عوام کی اکثریت کرپٹ ہے، میڈیا کے بیشتر افراد کے ایک نہیں کئی کئی چہرے ہیں، اسی طرح سیاستدانوں میں بھی بہت ہی کمزوریاں پائی جاتی ہیں ، تم ان کمزوریوں کو ضرور اچھالو لیکن قوم کو سیاست سے بیزار نہ کرو، سیاست کے کارزار میں موجود نسبتاً بہتر لوگوں کی نشاندہی کرو اور دوسروں پر وہ الزام اتنے یقین کے ساتھ عائد نہ کرو جو تمہارے اپنے ذہن کی پیداوار ہیں بلکہ عدالتوں پر زور دو کہ وہ چھان پھٹک کریں اور جو ان میں سے بدعنوان ہیں انہیں سزائیں سنائی جائیں تاہم ان تمام باتوں کے باوجود کوئی ایسی بات نہ کرو جو سیاسی عمل کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہو"۔بھولا ڈنگر بہت دیر تک اور بھی بہت کچھ بکتا رہا جب میں نے محسوس کیا کہ وہ باز نہیں آرہا تو میں وہاں سے اٹھ کر چلا گیا کیونکہ یہ بے وقوف شخص میری اصلاح کی کوشش کر رہا تھا۔ اس بدبخت کو علم نہیں کہ اصلاح تو عام انسانوں کی ہونے والی ہوتی ہے، میں تو فرشتہ ہوں!

تازہ ترین