بالی ووڈ کے معروف اداکار راجپال یادیو کو کچھ عرصے پہلے چیک باؤنس کیس میں سرینڈر کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اب حال ہی میں راجپال یادیو نے ایک پوڈ کاسٹ میں بطور مہمان شرکت کی جہاں انہوں نے اس معاملے پر تفصیل سے بات کی اور بتایا کہ اس تنازع کو غلط سمجھا جا رہا ہے، کہانی صرف قرض کی ادائیگی کی نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجھے جیل اس لیے نہیں ہوئی کیونکہ میرے پاس پیسے نہیں تھے بلکہ یہ اصول کا معاملہ تھا۔
اداکار نے وضاحت کی کہ اگر یہ صرف 5 کروڑ کا مسئلہ ہوتا تو 2012ء میں ہی نمٹ جاتا، لیکن اس 5 کروڑ نے 17 کروڑ کو ڈبونے کا کام کیا۔
اُنہوں نے انکشاف کیا کہ فلم پر تقریباً 12 کروڑ روپے پہلے ہی خرچ ہو چکے تھے اور ساری رقم ملا کر 22 کروڑ روپے کی فلم بن گئی۔
راجپال یادو نے دھوکا دہی کے الزامات پر اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ فلموں میں ناکامی کو دھوکا دہی نہیں سمجھنا چاہیے، فلم انڈسٹری میں بہت سے پراجیکٹس ایمانداری سے کام کرنے کے باوجود بھی ناکام ہو جاتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ میں قانون پر بھروسہ کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ یہ معاملہ بالآخر حل ہو جائے گا۔