• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماضی انسان کو ہمیشہ ایک سبق سکھاتا ہے لیکن دکھ کی بات تو یہ ہے کہ انسان اپنے ماضی سے کچھ نہیں سیکھتا اور جو غلطیاں اس کے آباء نے کی تھیں، انہیں کچھ ترامیم کے ساتھ اس امید پر دہراتا رہتا ہے کہ اس کے نتائج تبدیل ہو جائیں گے ۔ عملاً ایسا کبھی نہیں ہوتا اسی لیے یہ بات محاورتاً بولی جاتی ہے کہ تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ انسان تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتا ۔یہی وجہ ہے کہ پوری انسانی تاریخ ایک ہی طرح کی غلطیاں اور اسکی ایک ہی طرح کی سزاؤں سے بھری پڑی ہے ۔اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید خدا کو بار بار پیغمبر بھیجنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی کیونکہ خدا کے ان تمام برگزیدہ انسانوں کی تعلیمات ایک جیسی ہی تھیں مثلا ً دوسروں کا احترام کرو، کسی کی حق تلفی نہ کرو، جھوٹ نہ بولو، چوری نہ کرو، دوسروں کی غلطیوں کو معاف کر دو وغیرہ وغیرہ تاکہ زمین پر فساد نہ پھیلے اور یہ امن کا گہوارہ بنی رہے۔ گویا تخلیقِ آدم کا بنیادی مقصد انسانی فطرت کی اس منفی طاقت اور خواہش پر روک لگانا تھا جس کا آخری نتیجہ جنگ و جدل اور فساد کی شکل میں نکل سکتا ہے ۔ فرشتوں نے یہی بات کہہ کر تخلیقِ آدم کی مخالفت کی تھی کہ یہ دنیا میں جا کر فساد برپا کرے گا اور خون بہائے گا لیکن خدا نے فرمایا کہ ’’جو میں جانتا ہو ں تم نہیں جانتے‘‘اسی طرح نافرمان اور راندہ درگاہ ابلیس کو چیلنج دے دیا کہ’’میرا محبوب بندہ مومن ہوگا یعنی امن قائم کرنے والا‘‘۔ چنانچہ روز اول سے مومنوں اور مفسدوں میں ایک مقابلہ شروع ہو گیا جو آج تک جاری ہے ۔ اسی لیے تو تاریخ ِعالم کے عالموں کا یہ قول انسانی اوصاف اور کردار کے لحاظ سے ایک نچوڑ کی حیثیت رکھتا ہے کہ دنیا میں صرف دو ہی طبقے اور دو ہی مذہب ہیں،نام کے لحاظ سے نہیں کیونکہ تمام مذاہب اللّٰہ کی طرف سےآئے ہیں بلکہ کردارو عمل کے لحاظ سے، ایک ظالموں کا دوسرا مظلوموں کا یا ایک مومنوں کا جو امن کیلئے سرگرداں رہتے ہیں کیونکہ اس سے انسان کو راحت ملتی ہے جو خدا کو بہت عزیز ہے اور دوسرا مفسدوں یعنی فساد کرنے والوں کا جس سے انسان مصائب کا شکار ہو جاتا ہے، جسے خدا سخت ناپسند کرتا ہے۔ یہ مومن اور مفسد دنیا کے ہر خطے، ہر رنگ و نسل ، ذات برادری، ہر زبان بولنے والے اور ہر عقیدے کے ماننے والوں میں پائے جاتے ہیں انہیں فساد پھیلانے کیلئے صرف حیلے بہانوں اور طرح طرح کے جذباتی نعروں کی ضرورت ہوتی ہے ۔کبھی وہ قوم ، مسلک اور نسل کے نام پر خون بہانےکیلئے تیار ہو جاتے ہیں اور کبھی اس خدا کے نام پر بے گناہوں کی جانیں لینے پر تل جاتے ہیں جس خدا نے سب سے زیادہ انسانی خون کی حرمت کا درس دیا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ساری زندگی اپنے حقیقی دوستوں اور دشمنوں میں تمیز نہیں کر پاتے۔

ہماری دوستیاں اور دشمنیاں ہمارے ذاتی ، گروہی اور قومی مفادات کے تابع ہوتی ہیں ۔وگرنہ اس کا سیدھا سادہ حل یہ ہے کہ ہمیں اپنے دوست اور دشمن میں تمیزاس وجہ سے نہیں کرنی چاہیے کہ وہ ہمارا رشتہ دار ہے یا ہم وطن، ہمارا ہم مسلک ہے یا ہم ذات، ہماری دوستی اور دشمنی کا معیار صرف کردار اور عمل پر ہونا چاہیے کہ وہ مظلوم ہے یا ظالم ، اور ظالم کبھی ہمارا دوست نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح سے دنیا میں ظلم کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے قابل تحسین ہیں وہ تمام لوگ چاہے وہ کسی مذہب یا خطے سے ہوں جو آج ہونیوالے ظلم پر اپنے حکمرانوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں ۔

انسان نے جو بھی ترقی کی ہے وہ زمانہ امن میں کی ہے لیکن جنگ اگر تھوڑی دیر کیلئے چھڑ جائے تو اس کے نقصانات برسوں تک بھگتنے پڑتے ہیں۔ یہ وہ بات ہے جو ہر انسان جانتا ہے اور اسی وجہ سے سب کو جنگوں سے نفرت ہوتی ہے لیکن پھر بھی اسے جنگوں کا حصہ بننا پڑتا ہے ان جنگوں کا بھی جن کا جواز نہایت بھونڈا ہوتا ہے ۔ہماری تاریخ میں 200 سال تک مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جنگیں ہوتی رہیں جنہیں صلیبی جنگوں کا نام دیا جاتا ہے جو بظاہر بیت المقدس پر قبضے کی جنگیں تھیں لیکن عیسائی مورخ ہی بتاتے ہیں کہ عیسائی پادریوں نے یہ جنگیں اپنے مالی مفادات کیلئے شروع کی تھیں۔ بیت المقدس جو تینوں ابراہیمی مذاہب اسلام، یہودیت اور مسیحیت کیلئے مقدس مقام مانا جاتا ہے اور اس حقیقت کو تینوں مذاہب والے مانتے ہیں تو پھر اس مقدس مقام کو اپنی وحدت محبت اور اتفاق کی جگہ بنانے کی بجائے وجہ نفاق بنانا ضروری کیوں تھا ؟ اسی طرح ہٹلر نے جرمن قوم پرستی کے نام پر دنیا کو دوسری عالمی جنگ میں دھکیل دیا۔ وہی کچھ اب امریکہ اور اسرائیل کر رہے ہیں بے گناہوں کا خون پکارتا ہے۔۔

کب تلک خون کی ہولی یہ رہے گی جاری

قتلِ انسان کے سامان رہیں گے کب تک

کہیں طاقت کہیں غیرت کے لیے بہتا لہو

باعثِ ظلم یہ عنوان رہیں گے کب تک

قتل تو قتل ہے، چاہے ہو بہانہ کچھ بھی

جرم تو جرم ہے، چاہے وہ کسی نام سے ہو

خون بہتا ہے تو تہذیب ہے ماتم کرتی

یہ گنہ سب سے بڑا ہے کسی الزام سے ہو

زندگی رب کا ہے سب سے بڑا تحفہ لوگو

اس کو نفرت کی نہ سولی پہ یوں قربان کرو

مسئلے جنگ نہیں ، پیار سے حل ہوتے ہیں

زندگی یوں بھی ہے مشکل ، اسے آسان کرو

تازہ ترین