امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ فائرنگ کرنے والے کے پاس کئی ہتھیار تھے۔کئی سال میں پہلا موقع ہے نہیں کہ ری پبلکنز پر حملہ ہوا۔ ہمیں اپنے اختلافات دور کرنا ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس کوریسپونڈینٹ ڈنر کے دوران فائرنگ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں شوٹنگ کا ایران جنگ سے تعلق نہیں، وہ واحد حملہ آور ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک اہلکار کو گولی لگی مگر بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے محفوظ رہا۔ جس اہلکار کو گولی لگی میں نے اس سے بات کی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم اپنی تقریبات منسوخ نہیں کریں گے۔ ہم تیس دن میں اس سے بڑی تقریب منعقد کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تقریب جاری رکھنا چاہتے تھے مگر پروٹوکول کے تحت باہر گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی حیرت انگیز لمحہ تھا، ٹرے گرنے کی زوردار آوازیں سنیں، میں دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ کیا ہوا، میلانیا نے فوراً کہا بری آواز ہے، سیکریٹ سروس کے اہلکاروں نے بروقت اقدام کیا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جو لوگ بہت بڑے اقدام کرتے ہیں، جو بڑا اثر چھوڑتے ہیں، ان کے ساتھ ایسا ہوتا ہے، ہم نے بہت اقدامات کیے ہیں، اس ملک کا مذاق اڑایاجاتا تھا، ہم نےصورتحال بدلی۔ ہم نے ملک کی حالت بہتر کی، بہت سے لوگوں کو یہ پسند نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس شخص نے پندرہ گز دور سے حملے کی کوشش کی، ملزم زیرِ حراست ہے، تفتیش جاری ہے، ملزم کیلیفورنیا کا رہائشی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ملزم نے گرفتاری کے دوران سخت مزاحمت کی، فائرنگ کرنے والے شخص کے پاس کئی ہتھیار تھے، وہ بلٹ پروف جیکٹ پہنےتھا۔
اس موقع پر انہوں نے پنسلوینیا میں خود پر فائرنگ کے واقعہ کا بھی ذکر کیا۔