چھیانوے میل لمبی دیوارِ برلن جو دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے پر جرمنی کی شکست کے بعد تعمیر ہوئی اور اس نے نہ صرف جرمنی کو دو مملکتوں میں تقسیم کر دیا،بلکہ یہ دیوار دنیا کے نئے ورلڈ آرڈر کی شناخت بنی۔ اسکے بعد امریکہ نے کمزور ہوتی برٹش ایمپائر کی جگہ لے لی اور امریکہ کے مقابلے میں سوویت یونین دوسری بڑی طاقت بن کر اُبھرا۔ 9نومبر 1989ء کو جب دیوارِ برلن جرمن عوام نے توڑ دی تو نہ صرف مشرقی و مغربی جرمنی دوبارہ ایک ملک بن گئے، بلکہ دنیا میں جاری سرد جنگ کا خاتمہ بھی ہو گیا اور پھر 25دسمبر 1991ء میں جب سوویت یونین کے صدر میخائل گوربا چوف نے استعفیٰ دیا تو جہاں سوویت یونین اپنےمنطقی انجام کو پہنچا اور ساتھ میںدنیا میں سرد جنگ کے بچے کچھے بادل بھی مکمل طور پرچھٹ گئے،اور اسی کے ساتھ دنیا ’’یونی پولر ورلڈ‘‘ (یک محوری دنیا)میں داخل ہو گئی اور دنیا کی واحد سپر طاقت امریکہ بنکر اُبھرا۔ یونی پولر ورلڈ میں امریکہ اورمغرب کے اتحادیوں نے عالمی سرمایہ داری کے نظام کو وسعت دیکر عالمی منڈیوں میں فیصلہ کن طاقت حاصل کی، جسے گلوبلائزیشن قرار دیا گیا اسی میں امریکہ کے اتحادیوں اور عالمی سرمایہ داری نے براہِ راست جنگوں کا بھی آغاز کر دیا۔ اس پالیسی کے تحت مشرق ِوسطیٰ میں طاقت کا توازن بدلنے کیلئےامریکہ نے عراق پر براہِ راست12 اگست 1990ء کوحملہ کیا ۔امریکہ نےعراقی ریاست کو کھوکھلا کرنے کیساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں اپنا فوجی اثرو رسوخ اور دھاک بٹھائی، اسکے بعدمرایکہ کی قیادت میں صومالیہ پر جنگ مسلط کی گئی، امریکہ کے نیو ورلڈ آرڈر کے تحت جنگوں کا یہ سلسلہ ،ایشیا اور افریقہ تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ یورپ کو بھی اس کا نشانہ بنایا گیا۔اس پالیسی کے تحت 24مارچ 1999ءکو امریکہ اور نیٹو اتحاد نے بچے کچھے یوگوسلاویہ پہ جنگ مسلط کر کے اسکی معیشت اور جاندار صنعت کو تباہ و برباد کر دیا،اسلئے کہ یہ ملک بچے کچھے سوشلسٹ ممالک میںایک Potential ریاست تھی۔ یاد رہے کہ یورپ میں دوسری جنگ ِعظیم کے بعد یہ پہلی جنگ تھی، اسکے بعد امریکہ اور نیٹو اتحادیوں نے 7اکتوبر 2001ء کو افغانستان پر یلغار کی،پھرامریکہ نے 20مارچ 2003ء کو بچے کچھے عراق پر دوبارہ حملہ کر کے اس ریاست کی چولیں ہلا دیں۔ نیو ورلڈ آرڈر میں امریکہ اور عالمی سرمایہ داری کے ایک ہاتھ میں عالمی تجارتی ایجنڈا تھا اور دوسرے ہاتھ میں جنگ کا ایجنڈا، اسکے بعد افریقہ میں سب سے زیادہ تیل کے ذخائر (اڑتالیس ارب بیرل) رکھنے والے ملک لیبیا پر چڑھائی کر دی اور اسی کے ساتھ نام نہاد عرب بہار کے آخری دنوں میں شامل ہونیوالے ملک شام کی پرُ امن جدوجہد کو اپنے پراکسی دھڑوں اور اپنے اتحادی ممالک اور محدود حدتک خود بھی شامل ہو کر شام کو خانہ جنگی میں داخل کر دیا۔شام مشرقِ وسطیٰ کا اس جنگ سے قبل واحد ملک تھاجس پر کوئی قرضہ نہیں تھا،اس ملک کو خانہ جنگی میں تاتار کرنے کے بعد ایک ایسے شخص کو مسند اقتدار پر بٹھایا گیا،جو کسی وقت عراق میں امریکہ کا قیدی اوردہشت گرد کہلاتا تھا،اور اس ملک پر اقتصادی پابندیاں لگا کر اس ملک کے عوام کو غربت کی لکیر کے نیچے جانے پرشعوری طور پر گامزن کیا گیا اور خطے میں اپنے اہم اتحادی اسرائیل کو شام سے ہمیشہ کیلئے محفوظ کر دیا اور جب سابق دہشت گرد احمد جولانی اقتدار پر براجمان ہوا تو اسرائیل نے اپنی توسیع پسندی جاری رکھتے ہوئے شام کے کثیر علاقے پر فوجی قبضہ کر لیا۔یونی پولر ورلڈ میں گو پہلی دراڑ جارجیا اور روس کے مابین چھ دن کی جنگ میں 2008ء کو پڑ گئی ،جب روس نے جارجیا کو مکمل شکست سے دو چار کر کے امریکی کی پراکسی ریاست جارجیا اور اپنے خلاف میدانِ جنگ جیت لیا۔مگرپچھلے پندرہ سال میں چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین عالمی معیشت و اقتصادیات میں چیلنج بن کر اُبھرا اور اسی کے ساتھ دنیا کی جدید وار مشینری کی طرف بھی تیز رفتاری سے بڑھتا ہوا امریکہ کے مقابلے میں کئی حوالوں سے آگے نکل گیا۔چین کی وار مشینری کا پہلا بڑا فیصلہ اورمعرکہ پاک بھارت کی چار روزہ جنگ ہے،جب مئی2025ء میں بھارت جیسی دنیا کی اہم ریاست اور وسیع جنگی نظام کو پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی کے سبب شکست دے دی۔جو چین کے تعاون سے وجود میں آئی۔اس کے بعد ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کا مسلسل چالیس دن تک حملہ در حقیقت یونی پولر ورلڈنیوورلڈ آرڈرکا سر زمین ِ فارس میں دفن ہوجانا ہے امریکہ جہاں اپنے عزائم اور نتائج حاصل کرنے میں نہ صرف ناکام ہوا بلکہ پاکستان جیسی ریاست جس کا تعلق گلوبل ساوتھ یعنی تیسری دنیا سے ہے،امریکہ اور ایران کے مابین اہم ترین ثالث بن کر اُبھرا اورپاکستان ایک Swing State کے طور پراہم کردار ادا کرنے لگاامریکہ کا دوست ،چین کا دوست ،روس،ایران اور عرب دنیا کے مابین توازن کرنے والا اہم ترین ملک۔Swing States میں پاکستان کے علاوہ ترکی، منگولیا، قازقستان، ازبکستان، آذر بائیجان،آرمینیا اور ہنگری شامل ہیں۔اسٹرٹیجک سیاست کے ماہرین ان ریاستوں کوStates Middle Powers بھی قرار دے رہے ہیں۔یعنی اب امریکہ کے سامنے ،چین روس اور یہ ریاستیں بھی عالمی فیصلوں میں اپنا وزن رکھنے والی طاقتوں کے طور پر اُبھر کر سامنے آگئی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت ان مڈل پاور ریاستوں میں شمار نہیں کیا جا رہا،تاریخی جدلیات کے مطابق نیا نظام پرانے نظام کی راکھ پر ہی اُبھرا ہے۔اس سارے منظر نامے میں اگر چین کا معاشی سفر اس رفتار سےجاری رہا تو چین 2035 ءمیں دنیا کی سب سے بڑی عالمی اقتصادی طاقت بن جائیگا ۔جاری صدی میںپچھلے ورلڈ آرڈر کا اُبھرنا اور تین دہائیوں میں ہی اس کا لپٹ جانا ایک سیاسی معجزہ ہے،جس میں عوامی جمہوریہ چین کا فیصلہ کن کردار ہے۔