پاکستان اس وقت اللّٰہ تعالی کےفضل و کرم کی وجہ سے اقوام عالم کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف ،فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور ڈپٹی پرائم منسٹر اینڈ فارن منسٹر سینیٹر اسحاق ڈار اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اگلے مرحلہ میں پائیدار امن کی راہ ہموار کر دے، اللّٰہ کرے ایسا ہی ہو اس سے پاکستان کا بطور ریاست امیج کا گراف اوپر چلاجائیگا جس سے ہو سکتا ہے کہ ملک کے معاشی اور سماجی حالات میں بہتری آجائے۔
جنگی ماحول کا خاتمہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ عالمی اقتصاد ی حالات اتنی جلدی تو ٹھیک نہیں ہونے،اگر خدانخواستہ جنگ کے حالات مزید طول پکڑ گئے تو پاکستان جیسے کئی ممالک اقتصادی بحران سے دو چار ہو جائیں گے،جس کا کم از کم پاکستان تو متحمل نہیں ہو سکتا۔
اس حوالے سے آسٹریلیا ہو یا نیوزی لینڈ یا امریکہ ،برطانیہ، یورپ مشرق ِوسطیٰ کے ممالک میں مقیم پاکستانی خاندان بڑے فکر مند ہیں کہ ان کے پاکستان میں مقیم عزیزواقارب انہیں پاکستان میں امن وامان کی پریشان کن صورت حال، دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی ،انصاف کی عدم فراہمی اور دیگر سماجی مسائل سے جب آگاہ کرتے ہیں تو اوور سیز پاکستانی انتہائی پریشان ہو جاتےہیں۔ یہ اوورسیزپاکستانی موجودہ حالات میں پاکستان کی ملکی معیشت کو سہارا دینے کا واحد ذریعہ ہیں ورنہ تو پاکستان میں صنعت و تجارت کے شعبے حکومت کی ناقص اورغیر متوازن اقتصادی پالیسیوں،ٹیکسوں کے غیرمنصفانہ نظام اور دیگر کئی وجوہ کی بنا پر سخت مشکلات سے دو چار ہیں۔
پاکستان میں لوگوں کی آمدنی سے زیادہ ان پر مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ ہے۔اور سیز پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف ،فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور ڈپٹی پرائم منسٹر اینڈ فارن منسٹر سینیٹر اسحاق ڈار سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ عالمی سطح پر پاکستان کے بہترین امیج کیلئے جو کوششیں کر ہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اب وہ تھوڑا وقت پاکستان کے داخلی حالات کی بہتری پربھی صرف کریں گے،اس لیے کہ کسی بھی ملک کی بنیاد اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب اسکے داخلی حالات اطمینان بخش ہوںاور ہر آدمی کو روٹی اور سکیورٹی کی فراہمی یقینی ہو، سب کو تعلیم سمیت ہر شعبہ میں سارے حقوق حاصل ہو ں تا کہ سب مل کر ترقی کریں۔
اگر امیر اور غریب میں توازن بڑھ گیا تو خدانخواستہ پاکستان کے اندرونی حالات پریشان کن ہو سکتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ نئی وزیراعظم شہباز شریف اور ڈپٹی پرائم منسٹر اینڈ فارن منسٹر سینیٹر اسحاق ڈار پاکستان کی بیورو کریسی کو صحیح سمت میں چلنے کا راستہ دکھائیں۔ یہاں آسٹریلیا میں سول سروسز کاڈھانچہ اتنا مضبوط ہے کہ ہر محکمہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتا ہے اور سب کے مسائل ترجیحی بنیادوںپر حل کرتاہے کسی بھی محکمہ میں کسی ممبر پارلیمنٹ یا سیاسی پارٹی کے کسی بندےکی مداخلت نہیں ، ہر ادارہ عوام کو ہر سطح پر جواب دہ ہے۔ افسوس کہ پاکستان میں آوے کا آواہی بگڑتا جا رہا ہےعوام کا عوامی سروسز کے اداروں پر اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے جو صحت مند رجحان نہیں ۔ مختلف ممالک میں مقیم پاکستانی یہ بھی چاہتے ہیں کہ اب ہماری حکومت (یعنی وزیراعظم ،فیلڈ مارشل اور ڈپٹی وزیراعظم )امریکہ اور سعودی عرب سمیت اقوام عالم سے پاکستان کیلئے معاشی اصلاحات کے کوئی فوائد حاصل کرے اور اربوں ڈالر کے قرضوں کی معافی کے لیے لابنگ کرے۔قرضوں کی ری شیڈولنگ سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا مسئلہ امریکہ بہادر کی مرضی سے حل کرایا جا سکتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ عزوجل نے ہمیںیہ بہترین موقع عطا کیا ہے کہ ہم عالمی سطح پر فوائد حاصل کرنے کیلئےلابنگ کریں۔
ہم اورسیز پاکستانیوں کی آمدنیوں پر انحصار کی بجائے ڈومیسٹک اکانومی کی بہتری کیلئے اقدامات کئے جا سکتے ہیں، اس سے ہماری قوم خوشحال ہو گی تو عوام کی سوچ بھی صحت مند ہو جائے گی جیسے آسٹریلیا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں عوام بے فکری سے زندگی گزار رہے ہیں، سب سول آف لا پر چلتے ہیں اور سٹیٹ بھی ہر شہری کو پوری طرح پروٹیکشن اور تحفظ فراہم کرتی ہے۔سقوط ڈھاکہ سے پہلے امریکی صدر نکسن کے دور میں پاکستان نےامریکہ کےچین سے روابط کیلئے پل کا کردار ادا کیا تھا اور ہنری کسنجر کا خفیہ دورہ چین کرایا تھا اس کے بدلے امریکہ سے پاکستان کو ایف 16 طیارے اور دیگر سپورٹ ملنا شروع ہوئی تھی اس سے صدر ایوب خان کے دور میں حالات ہمارے لیے مفید ہوئے تھے اب ایک بہترین موقع ہے کہ پاکستان اس سے اقتصادی اور اسٹریٹجک فوائد حاصل کرے۔