• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

والد سے بہت ڈرتا تھا اسلیے 2 فلمیں بغیر اسکرپٹ پڑھے کیں، عامر خان کا انکشاف

تصویر سوشل میڈیا۔
تصویر سوشل میڈیا۔

بالی ووڈ سپر اسٹار عامر خان نے انکشاف کیا کہ انھوں نے دو فلمیں بغیر اسکرپٹ پڑھے کیں، کیونکہ میں اپنے والد سے ڈرتا تھا۔ 

فلم انڈسٹری کے مسٹر پرفیکشنسٹ عام طور پر سوچ سمجھ کر اور معیاری کہانیاں منتخب کرتے ہیں۔ مگر ان کے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں کچھ فیصلے ایسے بھی تھے جو اچانک اور غیر متوقع تھے۔ 

حال ہی میں ایک انٹرویو میں 61 سالہ عامر خان نے بتایا کہ انہوں نے اپنے پورے کیریئر میں صرف دو فلمیں ایسی کیں جن کے اسکرپٹ سنے بغیر ہی انھوں نے انکے لیے ہاں کر دی تھی۔ ان میں، اول نمبر اور  دوسری تم میرے ہو، یہ وہ دو فلمیں تھیں جو انہوں نے بغیر کہانی سنے سائن کیں اور ان دونوں فیصلوں میں ان کے والد طاہر حسین کا بڑا کردار تھا۔

فلموں کے انتخاب کے حوالے سے عامر نے کہا کہ وہ حکمت عملی کے بجائے ہمیشہ دل سے فیصلہ کرتے ہیں، جب میں کسی فلم کا انتخاب کرتا ہوں تو میرا دل اس میں ہونا چاہیے، چاہے میں بطور اداکار کام کروں یا پروڈیوسر۔ جب میں کوئی کہانی سنتا ہوں تو ایک عام فلم بین کی طرح سوچتا ہوں۔ اگر وہ مجھے متاثر کرے، کچھ نیا کہے اور مجھے پرجوش کرے، تب ہی میں فیصلہ کرتا ہوں۔ 

عامر خان نے بتایا کہ فلم اول نمبر کے لیے ان کے والد نے پہلے ہی ان کی طرف سے ہاں کر دی تھی اور فون کر کے کہا کہ دیو آنند تم سے ملنا چاہتے ہیں اور میں نے تمہاری طرف سے ہاں کر دی ہے۔ میں نے کہا کہ پہلے میں اسکرپٹ سنوں گا، مگر انہوں نے کہا کہ تم کچھ نہیں پوچھو گے، بس جا کر ہاں کر دو۔ 

میں اپنے والد سے بہت ڈرتا تھا، اس لیے میں نے مان لیا۔ مجھے کہانی کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ دوسری فلم تم میرے ہو تھی، جو والد نے خود بنائی تھی۔ انھوں نے پر مزاح انداز میں کہا میں نے والد سے کہانی پوچھنے کی کوشش کی تو وہ کہنے لگے ہم 30 سال سے فلمیں بنا رہے ہیں اور تم کہانی پوچھ رہے ہو؟ پھر مجھے تین گھنٹے کا لیکچر ملا۔ 

اس کے بعد میں نے کہا ٹھیک ہے، آپ فلم بنا لیں، مجھے کہانی سننے کی ضرورت نہیں۔ میری دوسری فلموں میں اگر آپ کو کچھ پسند نہیں آیا تو اس کا ذمہ دار میں ہوں، لیکن ان دو فلموں کے لیے میں نے اسکرپٹ ہی نہیں سنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان دو مواقع کے علاوہ وہ ہمیشہ اپنی فطری سوچ اور احساس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ 

انہوں نے تارے زمین پر، کی مثال دی، جسے بنانے کے فیصلے پر بہت لوگوں نے سوال اٹھائے تھے۔ جب میں نے تارے زمین پر بنانے کا فیصلہ کیا تو سب نے کہا کہ یہ تو  ایک کمزور ذہن بچے کی کہانی ہے، اسے کون دیکھے گا؟ لیکن مجھے کہانی پسند تھی، اس لیے میں نے بنا دی۔ یہ فلم بعد میں ان کے کیریئر کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی اور کامیاب فلموں میں سے ایک بن گئی۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید