کراچی کے ایک دور افتادہ اور پسماندہ علاقے کی تنگ گلیوں میں پیدا ہونے والا وہ لڑکا شاید خود بھی نہیں جانتا تھا کہ ایک دن اس کی کہانی پاکستان کے بدلتے ہوئے معاشی منظرنامے کی پہچان بن جائے گی۔ کچی دیواروں والے ایک چھوٹے سے گھر میں آنکھ کھولنے والا یہ بچہ، جسکے والد محلے کی ایک معمولی دکان چلاتے تھے، غربت، محرومی اور محدود وسائل اس کی زندگی کا حصہ تھے۔ مگر اس کے اندر ایک ایسی چنگاری تھی جو حالات کی تاریکی کو چیرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔اس نے وقت کوضائع کرنے کے بجائے اسے سیکھنے میں لگایا۔
انٹرنیٹ اس کا استاد بنا، اور دنیا بھر کی معلومات اس کیلئے ایک کھلی کتاب بن گئیں۔ ڈیجیٹل کرنسی اور آن لائن تجارت کی دنیا اس کیلئے ابتدا میں ایک پیچیدہ معمہ تھی، مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے ادھار لے کر صرف سو ڈالر سے اپنا پہلا اکاؤنٹ بنایا۔ ابتدا میں نقصان بھی ہوا، غلطیاں بھی ہوئیں، مگر اس نے ہر ناکامی کو سیکھنے کا ذریعہ بنایا۔ وقت کے ساتھ وہ اس میدان میں مہارت حاصل کرتا گیا۔آج وہی لڑکا، جو کبھی بنیادی ضروریات کیلئے ترستا تھا، ایک ملین ڈالر سے زائد کے ڈیجیٹل اثاثوں کا مالک ہے۔
اس کی ذہانت اور مہارت کا یہ عالم ہے کہ پاکستان کے بڑے تحقیقاتی اور خفیہ ادارے بھی پیچیدہ ڈیجیٹل معاملات میں اس سے رہنمائی لیتے ہیں۔ یہ صرف ایک فرد کی کامیابی کی کہانی نہیں، بلکہ ایسے ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کی داستان ہے جو خاموشی سے ڈیجیٹل دنیا میں اپنی تقدیر بدل رہے ہیں۔
ایسے ہی بدلتے ہوئے حالات کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے بروقت اس حقیقت کو محسوس کیا کہ پاکستان کا مستقبل ڈیجیٹل معیشت سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اس شعبے کی اہمیت کو تسلیم کیا بلکہ اس کو ایک منظم اور محفوظ شکل دینے کیلئے پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی حمایت کی۔ اس ادارے کی سربراہی بلال بن ثاقب کے سپرد کی گئی، جو ایک باصلاحیت، نوجوان اور جدید ٹیکنالوجی کی گہری سمجھ رکھنے والے ماہر ہیں۔ ان کی تکنیکی مہارت، عالمی رجحانات سے آگاہی اور ڈیجیٹل معیشت کی باریکیوں پر گرفت اس شعبے کیلئے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ اس قومی سوچ کو مزید تقویت اس وقت ملی جب فیلڈ مارشل سید عاصم منیرسربراہ پاک فوج، نے بھی اس شعبے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ ان کی سرپرستی اور ادارہ جاتی حمایت نے اس عمل کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ جب ریاست کے اہم ستون ایک سمت میں سوچنے لگیں تو ترقی کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
پاکستان میں اس وقت ایک بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے جو پہلے ہی غیر رسمی طور پر ڈیجیٹل اور کرپٹو ٹریڈنگ سے منسلک ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستانیوں کے دو سے تین ارب ڈالر اس شعبے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ سرمایہ اگر درست پالیسی، شفاف نظام اور مؤثر نگرانی کے ذریعے باضابطہ معیشت میں شامل کیا جائے تو یہ ملکی معیشت کیلئے ایک انقلابی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔حالیہ دنوں میں دبئی سمیت مختلف بین الاقوامی مارکیٹوں میں ہونے والے مالی نقصانات کے بعد پاکستانی سرمایہ کار متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔ ایک بڑی رقم اب یا تو ڈیجیٹل اثاثوں کی طرف جائے گی یا پھر ملک کے اندر رئیل اسٹیٹ میں منتقل ہو سکتی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ اس سرمائے کو اپنے اندر جذب کرے اور اسے ترقی کیلئے استعمال کرے۔
تاہم، اس روشن تصویر کے باوجود کچھ تلخ حقیقتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ حال ہی میں جاپان سمیت دیگر ممالک سے کچھ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان آئے، جن کا مقصد واضح تھا کہ وہ ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔ مگر بدقسمتی سے انہیں وہ توجہ اور رسپانس نہ ملا جس کی انہیں توقع تھی۔ متعدد کوششوں اور رابطوں کے باوجود ان کی متعلقہ حکام سے ملاقات نہ ہو سکی اور وہ مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔ یہ صورتحال نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ ایک بڑے معاشی موقع کے ضیاع کے مترادف بھی ہے۔اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ اس شعبے میں سنجیدگی، تیزی اور شفافیت لائی جائے۔ سرمایہ کاروں کیلئے آسان اور فوری لائسنسنگ نظام متعارف کرایا جائے، ایک مربوط ون ونڈو نظام قائم کیا جائے، اور انہیں یہ یقین دلایا جائے کہ پاکستان سرمایہ کاری کیلئے ایک محفوظ اور قابل اعتماد ملک ہے۔اگر وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، اور بلال بن ثاقب کی قیادت میں یہ ریگولیٹری نظام مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کرے اور ملک کے ایک کروڑ سے زائد نوجوانوں کو اس ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنا دیا جائے، تو پاکستان نہ صرف اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل اور کرپٹو معیشت میں ایک نمایاں مقام بھی حاصل کر سکتا ہے۔
کراچی کے اس نوجوان کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ صلاحیت کی کوئی کمی نہیں، صرف مواقع اور درست سمت کی ضرورت ہے۔ اگر ریاست یہ سمت فراہم کر دے تو‘‘ڈیجیٹل پاکستان’’محض ایک خواب نہیں رہے گا بلکہ ایک ایسی حقیقت بن جائے گا جو نہ صرف ملک کی معیشت کو مضبوط کرے گی بلکہ لاکھوں خاندانوں کی تقدیر بھی بدل دے گی۔