25 ءکے وسط موسمِ گرما کو جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک ایسے فیصلہ کن موڑ کے طور پر یاد رکھا جائیگا جب خطے کا اسٹرٹیجک منظرنامہ بنیادی طور پر تبدیل ہو گیا۔ آپریشن بُنیَانُ مّرصُوص جسے”آہنی دیوار “بھی کہا جاسکتاہے ،کے ذریعے پاکستان نے روایتی دفاعی حکمتِ عملی سے آگے بڑھتے ہوئے واضح برتری پر مبنی ایک نیا نظریہ پیش کیا۔یہ آپریشن محض جھڑپوں کا سلسلہ نہیں تھا بلکہ عسکری قوت، سائبر وارفیئراور نفسیاتی غلبے کے مربوط استعمال کی ایک شاندار مثال تھا جسکے نتیجے میں ایک جامع کامیابی حاصل ہوئی اور پاکستان نے عسکری، سیاسی اور سفارتی محاذوں پر اپنی برتری قائم کی۔یہ تنازع7 مئی کو بھارت نے ’آپریشن سندور‘ کے ذریعے بھڑکایا ۔بھارت نےپاکستان کے چھ شہروں کو چوبیس میزائلوں سے نشانہ بنایا جس میں اکتیس شہری شہید ہوئے۔ پاکستان کی طرف سے اسکا منہ توڑ جواب دیا گیا جس نے پورے عزم و دلیری کیساتھ دشمن کی عددی اور تکنیکی برتری کے دعوے کو خاک میں ملا دیا اور جدید جنگ کی تعریف بدل دی۔اس فتح میں مرکزی کردار ایک فضائی معرکہ تھا جو اکیسویں صدی کی سب سے بڑی فضائی لڑائی بن گئی۔ پاک فضائیہ کے سربراہ کی شاندار حکمت عملی نے شاہینوں کو ایسا جذبہ فراہم کیا کہ انہوں نےصرف 42 جنگی طیاروں سے 83 بھارتی طیاروں کابھر پور مقابلہ کیاجس میں رافیل جیسے جدید طیارے بھی شامل تھے۔ نتیجہ ہندوستانی جنگی جنون کی ذلت کی صورت میں سامنے آیا۔ انکے چھ طیارے بشمول رافیل شاہینوںنےتباہ کر دیے ۔ سب سے اہم روسی ساختہ دفاعی نظام تھاجوبری طرح ناکارہ بنادیا گیا۔ پاکستان کے کسی جہاز کو نقصان نہ پہنچا جو یہ ثابت کرتا ہے کہ اعلیٰ پائلٹ ،حکمت عملی اور جدید الیکٹرونک وارفیئردنیا کے سب سے طاقتور فضائی دفاعی نظام کو بھی ناکارہ بنا سکتا ہے۔ فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی غیر معمولی قیادت اور جرات مندی نے زمینی محاذ پر کامیابی کی رفتار کو برقرار رکھا۔انہوں نے ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں ایک ایسی جوابی کارروائی کی منظوری دی جسکا ہدف دشمن کا بنیادی ڈھانچہ تھا۔ یہ رد عمل نہایت تیز ، موثر اور کثیر جہتی نوعیت کا حامل تھا۔ایس 400کو جے ایف 17 طیاروں نے ادھم پور میں تباہ کیا۔ فتح ون میزائلوں نے بیاس اور نگروٹا میں براہموس کےذخیرے کو تباہ کیا جبکہ پاک فضائیہ نے بھارتی ہوائی اڈوں کو ناکارہ بنا دیا۔ پاک فوج نے چھبیس ہائی ویلیواہداف کو تباہ کیا۔تاہم یہ کامیابی صرف روایتی میدانِ جنگ تک محدود نہ رہی بلکہ پانچویں نسل کی جنگ کے ڈیجیٹل اور نفسیاتی محاذوں تک پھیل گئی۔ پاکستان کی سائبر کمانڈ نے ایک منظم اور مؤثر سائبر کارروائی کے ذریعے بھارت کے شمالی پاور گرڈ کو مفلوج کر دیا جسکا ایسا سلسلہ وار اثر پیدا ہوا کہ بھارتی ریلوے نظام بھی متاثر ہوا ، دہلی میں گیس کی ترسیل پر اثر پڑا اور سرکاری و سیاسی اداروں کے ڈیجیٹل ڈھانچہ بھی غیر فعال ہوگیا۔بھارت نے جھوٹے دعووں کے ذریعے میڈیا پر شور مچائے رکھامگر پاکستانی قیادت نے’’اسٹرٹیجک خاموشی‘‘کو ترجیح دی۔ زمینی حقائق ، تباہ شدہ طیاروں اور تاریکی میں ڈوبے شہروں کے منظرِ عام پر آنے کا انتظار کیا گیا جسکے بعد حقیقت خود واضح ہو گئی۔ یوں عالمی سطح پر بھارتی بیانیہ کی قلعی کھل گئی ۔آپریشن کے سفارتی اور سیاسی اثرات نے عالمی تاثر میں ایک نمایاں تبدیلی کو اجاگر کیا۔بھارتی انتظامیہ کو اندرونی بے چینی اور سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ۔ چین، ترکی اور آذربائیجان جیسے اہم عالمی شراکت داروں نے پاکستان کی. بھرپور سفارتی حمایت کی۔بین الاقوامی مالیاتی حلقوں نے بھی اعتماد کا اظہار کیا جب آئی ایم ایف نے تنازع کے دوران ایک ارب ڈالر کے پروگرام کی منظوری دی۔ مغربی طاقتوں کی محتاط غیرجانبداری اور اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان کے ابتدائی تحمل کا اعتراف اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سفارتی توازن بتدریج نئی دہلی سے ہٹ کر پاکستان کے حق میں منتقل ہو رہا ہے۔بالآخر’’ آپریشن بُنیَانُ مّرصُوص ‘‘کی کامیابی مسلح افواج اور اس کی قیادت کے درمیان غیر معمولی ہم آہنگی اور مضبوط عزم کا عملی مظہر بن کر سامنے آئی۔ جنرل سید عاصم منیر کی حتمی وارننگ کہ جواب محض سنا ہی نہیں جائے گا بلکہ دنیا اسے اپنی آنکھوں سے دیکھے گی،اس تنازع کا فیصلہ کن پیغام ثابت ہوئی۔جدید عسکری حکمتِ عملی کے تحت J-10C پلیٹ فارمز، Ra’ad-II کروز میزائلز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ہدفی نظام کو یکجا کرتے ہوئے، فوجی قیادت نے پاکستانی سپاہی کو ایک جدید ڈیٹا وارئیر کی شکل دی دی۔ یہ آپریشن دراصل قومی خودمختاری کے اعادے کا اعلان تھا جس نے روایتی عسکری برتری کے تصورات کو چیلنج کرتے ہوئے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی۔اس کے نتیجے میں ڈیٹرنس کا ایک مضبوط اور دیرپا ڈھانچہ قائم ہوا جس نے پاکستان کو محض دفاعی حکمتِ عملی سے نکال کر ایک ایسی پوزیشن پر لا کھڑا کیا جہاں غالبانہ درستی اور فیصلہ کن صلاحیت کے ساتھ قومی سلامتی کو مؤثر انداز میں یقینی بنایا جا سکتا ہے۔اس پورے تناظر میں پاکستان کی اصل طاقت اسکی غیر معمولی قومی یکجہتی اور سول و عسکری قیادت کے درمیان مضبوط ہم آہنگی میں نظر آئی۔ اس نازک وقت میں نہ صرف سیاسی و عسکری قیادت ایک مؤثر حکمتِ عملی کے تحت ایک صفحے پر رہی بلکہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ریاستی اداروں اور افواجِ پاکستان کے ساتھ واضح یکجہتی کا اظہار کیا۔ عوامی سطح پر بھی ایک بھرپور اور غیرمتزلزل حمایت دیکھنے میں آئی جس نے قومی حوصلے کو مزید تقویت دی۔ اس اجتماعی عزم نے یہ پیغام دیا کہ بیرونی دباؤ یا چیلنجز کے باوجود پاکستان اندرونی طور پر ایک متحد اور مربوط قوم ہے جو اپنے اداروں کے ساتھ کھڑے ہو کر ہر آزمائش کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔مزید برآں، پاکستان نے اپنے منفرد سفارتی مقام سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ حالیہ خلیجی کشیدگی میں واشنگٹن کے ساتھ اعتماد پر مبنی عسکری تعلقات اور تہران کے ساتھ مضبوط برادرانہ روابط کی بدولت پاکستان نے دونوں روایتی حریفوں کے درمیان کامیابی سے جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کیا اور دنیا کو ایک ممکنہ تباہ کن تصادم سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ امن کیلئے یہ کامیاب سفارتی کاوش پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد اور مؤثر ثالث کے طور پر عالمی سطح پر منوانے کا سبب بنی جس نے دنیا کے سخت ترین حریفوں کو ایک میز پر بٹھانے کی اپنی صلاحیت بھی ثابت کی۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد
(صاحب تحریر ہلال امتیاز و ملٹری نائٹ (جنیوا)
اعزاز کے حامل اور ڈائریکٹر سندس فاؤنڈیشن ہیں)