• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ ہائیکورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں ملزمان کو عمر قید کی سزا سنادی


فائل فوٹو
فائل فوٹو 

سندھ ہائیکورٹ نے  منشیات برآمدگی کے کیس میں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی ملزم کی سزا کو بڑھانے کی درخواست پر ملزمان ذاکر اور عمر وحید کی سزا بڑھا کر عمر قید میں تبدیل کردی۔

عدالت نے کہا کہ  ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا کالعدم قرار دیکر عمر قید کی سزا دی جاتی ہے، ٹرائل کورٹ کی جانب سے عائد ایک لاکھ روپے فی کس جرمانہ برقرار رہے گا۔

کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹر اے این ایف نے کہا کہ ملزمان کو 2016 میں گرفتار کرکے 204 کلو چرس برآمد کی تھی، انسداد منشیات کورٹ نے ملزمان کو 17،17 برس قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی، قانون کے تحت اتنی بڑی مقدار میں منشیات برآمدگی پر عمر قید یا سزائے موت مقرر ہے، عدالت نے ملزمان کو قانون کے برعکس کم سزا دی ہے۔

وکیل صفائی نے کہا کہ ملزمان کا کوئی سابقہ جرائم کا ریکارڈ نہیں، ملزمان نے اعتراف جرم کرتے ہوئے رحم کی بنیاد پر سزا میں نرمی کی درخواست کی تھی، ٹرائل کورٹ نے ملزمان کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے نرمی برتی۔

جسٹس شمس الدین عباسی نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل کورٹ نے قانون میں مقرر کم از کم سزا سے بھی کم سزا دیکر صوابدیدی اختیارات کا غلط استعمال کیا،  قانون کے تحت 10 کلوگرام سے زائد منشیات کے مقدمات میں سخت سزائیں مقرر ہیں، سخت سزاؤں کا مقصد معاشرے میں اس سنگین جرم کی روک تھام ہے۔

عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے فیصلے میں اس اصول کو نظر انداز کیا، ملزمان کے خود اعتراف جرم کے بعد سزا میں نرمی کا کوئی جواز نہیں بنتا، ٹرائل کورٹ کی جانب سے سزا میں نرمی قانونی دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

قومی خبریں سے مزید