امریکا نے عراق کے نائب وزیرِ تیل علی معارج البہادلی اور ایران نواز مسلح گروہوں کے چند رہنماؤں پر پابندیاں عائد کر دیں۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکی محکمۂ خزانہ نے الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ان شخصیات نے ایران کو پابندیوں سے بچاتے ہوئے عراقی تیل کے ذریعے ایرانی تیل فروخت کرنے میں مدد دی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کو عراقی تیل ظاہر کر کے عالمی منڈی میں فروخت کیا جاتا رہا جس سے ایران کو اربوں ڈالرز حاصل ہوئے۔
واشنگٹن کے مطابق اس رقم کا استعمال خطے میں ایران نواز گروہوں اور مسلح سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے کیا جاتا ہے۔
پابندیوں کی زد میں آنے والی شخصیات پر امریکا نے تیل اسمگلنگ اور اسلحے کی خریداری میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت ایران کے خلاف ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے، ایران کی معیشت کا بڑا حصہ تیل کی برآمدات پر منحصر ہے، اسی لیے امریکا ایرانی تیل کی فروخت روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراق اور ایران کے قریبی سیاسی اور مذہبی تعلقات ہیں جبکہ کئی ایران نواز گروہ عراق کے تیل اور معیشت کے اہم شعبوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
دوسری جانب بغداد امریکا کے ساتھ تعلقات بھی خراب نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اسے امریکی فوجی اور اقتصادی حمایت کی ضرورت ہے۔