امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے لیے ایران کا نیا نظام انتہائی خطرناک ہے۔
مائیک والٹز نے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی ایران کے خلاف امریکا کی قرارداد سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر کی حمایت یافتہ اس قرارداد میں ایران سے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے، جہازوں پر حملے بند کرنے اور ٹول ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
اُنہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی اقدامات بنیادی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جس سے پوری دنیا متاثر ہو گی۔
امریکی سفیر نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے یہ قرارداد سلامتی کونسل میں لا کر اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کو بنیادی اصولوں کو برقرار رکھنے کا ایک اور موقع دیا۔
دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو لکھے گئے خط میں قرارداد کے مسودے کو یک طرفہ اور نامکمل قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتِ حال کی اصل وجہ ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی فوجی جارحیت اور طاقت کا غیر قانونی استعمال ہے، جس کا قرارداد کے مسودے میں کوئی ذکر ہی نہیں کیا گیا۔