• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دوحہ میں موجود افغانوں کو ستمبر 2026 تک منتقل کر دیا جائے، قطر کا امریکا سے مطالبہ

تصویر سوشل میڈیا۔
تصویر سوشل میڈیا۔

قطر نے امریکا سے کہا ہے کہ دوحہ میں موجود افغانوں کو ستمبر 2026 تک قطر سے منتقل کر دیا جائے، جبکہ ان کے عارضی میزبانی کے معاہدے میں اب توسیع کر دی گئی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ سفارتی دستاویزات کے مطابق، قطر اور امریکا نے افغان سے انخلا کیے گئے افراد کی عارضی میزبانی کے انتظام کو 2026 تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، تاہم قطر نے زور دیا ہے کہ یہ انتظام مستقل نہیں بلکہ عارضی ہی رہنا چاہیے۔

یہ معاہدہ ان افغان شہریوں سے متعلق ہے جنہیں 2021 میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد وہاں سے نکالا گیا تھا۔ ان افراد کو دوحہ کے قریب واقع کیمپ السیلیہ میں رکھا گیا ہے، جہاں وہ امریکا یا دیگر ممالک میں آبادکاری کے منتظر ہیں اور اس وقت 1100 سے زائد افغان اس عارضی مرکز میں موجود ہیں۔

دستاویزات کے مطابق قطر نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ کیمپ میں موجود تمام افغانوں کی حیثیت کا فیصلہ کیا جائے اور مزید کسی نئے افغان انخلا کیے گئے فرد کو قطری سرزمین پر نہ بھیجا جائے۔

کیمپ السیلیہ 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران ایک اہم عبوری مرکز کے طور پر استعمال ہوا تھا، جب یہاں ہزاروں افغانوں کو بیرونِ ملک آبادکاری کے لیے لایا گیا تھا۔ 

اصل معاہدہ 2023 میں طے پایا تھا اور تازہ ترین توسیع سے قبل اس کی 2024 میں بھی توسیع کی گئی تھی۔ معاہدے کے تحت مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد ان افراد کی منتقلی کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید