امریکا نے ایران کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے جمعے کے روز کئی فضائی حملے کیے اور ایران پر عائد بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے متعدد خالی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔
سینٹ کام نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے 70 سے زائد آئل ٹینکرز کو ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا نکلنے سے روک دیا، ان تجارتی جہازوں میں مجموعی طور پر 16 کروڑ 60 لاکھ سے زائد بیرل ایرانی تیل لے جانے کی گنجائش موجود ہے، جس کی مالیت اندازاً 13 ارب ڈالر سے زیادہ بنتی ہے۔
خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت اور تیل کی تجارت کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔
امریکی بحریہ نے حالیہ ہفتوں میں متعدد جہازوں کی تلاشی، روک تھام اور بعض صورتوں میں قبضے کی کارروائیاں بھی کی ہیں، جبکہ ایران نے ان اقدامات کو ’بحری قزاقی‘ اور جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایرانی تیل کی ترسیل طویل عرصے تک متاثر رہی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں پر پڑنے کا خدشہ ہے۔