• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صاف ستھرا ماحول دنیا بھر میں صحت مند معاشرے کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے صحرا اور جنگل تو کیا انسان بھی صحت مند ماحول سے محروم ہیں۔دھواں نکالتی ہوئی صنعتیں اور سڑکوں پر دھواں چھوڑتی ہوئی گاڑیاں انسانوں کیلئے جبکہ بعض وجوہات کی بناء پر جنگلوں میں ماحول بہتربہت بنانے والے پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں کی کم ہوتی مقدار کے باعث پچھلے کچھ برسوں کے دوران پاکستانی جنگلات اور خاص طور پر پنجاب اور سندھ کے چولستانوں میں مردار جانور کھانے والی گدھ کی انتہائی کم مقدار کے باعث یہاں رہنے والے انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کیلئے بھی یہاں رہنا انتہائی دشوار ہو گیا تھا۔ تاہم حکومتی اور نجی سطح پر دس پندرہ سال کی انتھک محنت و جدو جہد کے باعث چولستان(رحیم یار خان) میں گدھ کی آبادی میں دوبارہ خاطر خواہ اضافہ ہونے سے چولستان بھر میں ماحول بہترہونے سے یہاں انسانوں اور جانوروں کی زندگیوں میں دوبارہ خوشیاں لوٹ آئی ہیں۔راقم کو ملنے والی معلومات کے مطابق تقریباً پندرہ بیس سال قبل ملک بھر میں جانور مالکان کی طرف سے جانوروں میں درد کو فوری طور پر ختم کرنیوالے) Pain killer (  ٹیکے ”ڈیکلرون(Decloron)کے ویٹرنری ڈاکٹرز کی ہدایات کے بغیر بے تحاشہ استعمال سے ان جانوروں میں (Sodium diclofenac) کے غیر معمولی اضافے سے یہ جانور مرنے کے بعد جب گدھ کی خوراک بنتے تھے تو ان میں اس کیمیکل کے انتہائی مضر اثرات مرتب ہونے سے ان گدھوں کے جگر بری طرح متاثر ہونے سے ان کی بڑی تعداد میں اموات واقع ہونا شروع ہو گئیں اور یہ اموات بڑھتے بڑھتے اس قدرزیادہ ہو گئیں کہ جنگل اور چولستان گدھوں سے خالی ہو گئے جس سے چولستان میں مردار جانوروں کی بہتات سے چولستان صاف ستھرے ماحول سے محروم ہو گیا۔ماہرین کے مطابق اس کیمیکل کے مضر اثرات کے باعث درختوں پر بیٹھے بیٹھے گدھوں کی بڑی تعداد کمزوری کے باعث درختوں سے گر کر  ہلاک ہونے ہونے کے ساتھ ساتھ ان ٹیکوں کے مضر اثرات کے باعث ان کے انڈوں کے خول بھی انتہائی کمزور ہوگئے اور جب مادہ گدھ بچے نکالنے کے لئے ان انڈوں پر بیٹھی تو یہ انڈے فوری طور پر ٹوٹ جانے سے ان گدھوں کی افزائش نسل بھی تقریباً ختم ہونے سے رحیم یار خان سمیت تھرپارکر کے چولستان میں بھی گدھوں کی تعداد انتہائی کم ہونے سے دونوں چولستانوں اور دیگر علاقوں میں مردہ جانوروں کی باقیات ختم نہ ہونے سے ماحولیات کے مسائل نے نہ صرف جانوروں بلکہ یہاں رہنے والے انسانوں پر بھی انتہائی مضر اثرات مرتب کئے۔ جس کے باعث بعض علاقوں میں انسانوں کا رہنا تقریباً نا ممکن ہو گیا۔ چولستانی ماہرین سے راقم کو ملنے والی معلومات کے مطابق چولستان میں ماحولیات انتہائی منفی ہونے کے باعث جب یہ خبر بیرونی دنیا تک پہنچی تو 2005ء میں ایک امریکی ادارےThe Peregrine fund,USA  نے فوری پر پاکستان میں گدھوں کی اموات کی تحقیقات کے لئے ایک چار رکنی ریسرچ بورڈ قائم کیا جس کے سربراہ ڈاکٹر مارٹن گلبرٹ تھے جبکہ اس میں امریکہ سے ڈاکٹر منیر میرانی اور پاکستان سے ڈاکٹر علیم احمد خان اورپروفیسر ڈاکٹر احمد علی شامل تھے جنہوں نے حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کے تعاون سے چولستان میں گدھوں کی ہلاکت کی وجوہات جاننے کیلئے کام شروع کیا اور جب انہوں نے مرے ہوئے گدھوں کے پوسٹ مارٹم اور زندہ گدھوں کے خون کے ٹیسٹ کئے تو انہیں پتہ چلا کہ مذکورہ ٹیکوں کے مضر اثرات والے مردہ جانور کھانے سے ان کے جگر اور گردے بری طرح متاثر ہونے سے ان کی اموات واقع ہو رہی ہیں جس پر اس ٹیم کی سفارش پر نہ صرف حکومت پاکستان بلکہ چاروں صوبوں کی حکومتوں نے فوری طور پر جانوروں کو مذکورہ ٹیکہ لگانےپر نہ صرف فوری طور پر پابندی عائد کر دی بلکہ مردہ جانوروں کو کھلی جگہوں پر پھینکنے کی بجائے انہیں فوری طور پر گہرے گڑھوں میں دبانے کے احکامات جاری کر دیئے تاکہ گدھ انہیں نہ کھا سکیں بلکہ اس کے علاوہ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے ٹی وی،ریڈیو اور اخبارات میں جانوروں کو مذکورہ ٹیکہ جات نہ لگانے اور مرے ہوئے جانوروں کو زیر زمین دبانے کے بارے میںایک بھر پور اشتہاری و آگاہی مہم شروع کی جس میں بعض شہروں میں اس بارے آگاہی واکس کا بھی اہتمام کیا گیا جسکے عوام پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوئےتاہم اس سے مردہ جانوروں کو زیر زمین دبانے کے باعث گدھوں کو انکی خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے اس بارے ایک انتہائی انقلابی قدم اٹھایا اور پنجاب میں بہاولپور اور ملتان کے درمیان ایک ایسی جگہ جہاں گدھ زیادہ پائے جاتے تھے وہاں اور چھانگا مانگا جبکہ سندھ حکومت نے تھرپارکر میں ایک،ایک اینیمل فیڈ ریسٹورنٹ (Animal feed restaurant) قائم کئے جہاں ان گدھوں  (Vultures)کیلئے صحت مند گَدھوں (Donkeys) کاگوشت بڑی تعداد میں مہیا کیا گیا اور اطلاعات کے مطابق وفاقی و صوبائی حکومتوں اور اس امریکی تنظیم کی انتھک کاوشوں کے باعث چولستان میں گدھ دوبارہ بڑی تعداد میں پائے جا رہے ہیں جس سے چولستان میں ماحول بھی بہت بہتر ہو گیا ہے لیکن بعض معلومات  کے مطابق حکومتی پابندی کے باوجود بعض جانور مالکان اب بھی اپنے جانوروں کو مذکورہ ٹیکے پابندی عائد کیے جانے کے باوجود لگا رہے ہیں جو بڑی خطرناک بات ہے۔ ماہرین کے مطابق گدھ کی تعداد میں کمی کی ایک اور بڑی وجہ اونچے اور مضبوط درختوں، جن میں خاص طور پر شیشم قابل ذکرہے ،کی کمی بھی ہے کیونکہ ان درختوں کی کمی کے باعث گدھ کو اپنے گھونسلے بنانے میں بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے محکمہ وائلڈ لائف کو چاہیے کہ وہ جنگلوں میںشیشم کے درخت، جو ایک وائرس کے باعث جنگلوں سے ختم ہو گئے ہیں ،ان کی بحالی کیلئے خاطر خواہ اقدامات ہنگامی بنیادوں پر کریں جبکہ جانور مالکان اور محکمہ لائیو سٹاک کو چاہیے کہ وہ جانوروںمیں مذکورہ مضر ٹیکہ جات کا استعمال فوری طور پر بند کرائے تاکہ ہمارے جنگلوں اور چولستانوں کا حسن برقرار رہے۔

تازہ ترین