بھارتی ریاست اترپردیش کے علاقے گریٹر نوائیڈا کی ایک 22 سالہ نئی نویلی دلہن کو شوہر اور سسرالیوں نے کروڑوں کی جائیداد کے ہتھیانے کیلئے مبینہ طور پر قتل کردیا۔ خاتون کی تین ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مقتولہ کی شناخت مونیکا نگر کے نام سے ہوئی ہے جس نے 17 فروری کو انوچ چوہان سے کورٹ میرج کی تھی۔
خاندان کا کہنا ہے کہ مونیکا کو دھوکے سے شادی میں پھنسا کر بار بار دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنی جائیداد شوہر کے خاندان کے نام منتقل کرے۔
مقتولہ کے رشتہ دار انیل نے بتایا کہ شادی کے دو ماہ بعد ہی اسے ہراساں کا جانے لگا۔ شوہر اور سسرالیوں نے صرف پیسے کے لیے شادی کی۔ مونیکا کے نام کروڑوں کی جائیداد تھی اور وہ جائیداد اپنے نام کروانے کیلئے اُسے مسلسل اذیت دیتے رہے۔
انیل کے مطابق جمعرات کو دوپہر 2 بجے مونیکا نے فون کر کے بتایا کہ شوہر اور سسرالی اسے مار رہے ہیں اور دھمکی دے رہے ہیں کہ زمین منتقل کرو ورنہ قتل کر دیں گے۔
خاندان نے کہا کہ جب مونیکا کی والدہ شام 8 بجے بیٹی کے گھر پہنچی تو وہاں ہجوم تھا اور انوچ مونیکا کی لاش کار میں ڈال رہا تھا۔ وہ گاڑی کا پیچھا کرتے ہوئے اسپتال پہنچے، جہاں ڈاکٹروں نے مونیکا کو مردہ قرار دیا۔
انیل نے الزام لگایا کہ والدہ کو روکنے کی کوشش پر ان پر حملہ کیا گیا اور ملزمان فرار ہو گئے۔
خاندان کا کہنا ہے کہ پولیس کو فوری اطلاع دی گئی لیکن ایک گھنٹے بعد بتایا گیا کہ مونیکا کی لاش جلا دی گئی ہے اور باقیات پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی گئی ہیں۔
انیل نے پولیس پر عدم تعاون کا الزام لگاتے ہوئے کہا، "ہم ایک تھانے سے دوسرے تھانے جاتے رہے، نہ لاش دی گئی نہ بتایا گیا کہ کس حالت میں جلی۔ تمام ملزمان بھی مفرور ہیں۔"
تاہم پولیس کے مطابق مونیکا شادی سے پہلے والدہ کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہتی تھی اور دونوں خاندان شادی سے آگاہ اور راضی تھے۔ پولیس نے کہا کہ مونیکا نے بھائی کو بتایا تھا کہ شوہر اور سسرالی اسے مار رہے ہیں، جس کے بعد خاندان نے قتل کا الزام لگایا۔
پولیس نے بتایا کہ شکایت پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق جلد از جلد گرفتاری یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔