• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا میں مہنگی طبی سہولتوں کے سبب ماں بننا مشکل ترین قرار

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

امریکا میں ماں بننا ناصرف جسمانی بلکہ مالی طور پر بھی انتہائی مشکل اور مہنگا عمل بن چکا ہے، پیدائش سے لے کر بچے کی پرورش تک اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ لاکھوں خاندان قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق صرف نارمل زچگی کا اوسط خرچ تقریباً 15,178 ڈالرز ہے جبکہ آپریشن کے ذریعے پیدائش کا خرچ 19,292 ڈالرز تک پہنچ جاتا ہے۔

بعض ریاستوں میں یہ اخراجات 30,000 سے 70,000 ڈالرز تک بھی جا سکتے ہیں، خاص طور پر جب مریض کو نیٹ ورک سے باہر علاج لینا پڑے۔

رپورٹس کے مطابق اگر ڈاکٹر یا اسپتال انشورنس کے نیٹ ورک میں نہ ہو تو بل کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور مریض کو غیر متوقع بھاری ادائیگیاں بھی کرنا پڑتی ہیں۔

امریکا میں تقریباً 92 فیصد لوگ کسی نہ کسی ہیلتھ انشورنس کے باوجود مکمل تحفظ نہیں پاتے جبکہ 8 فیصد افراد بالکل بغیر انشورنس کے ہوتے ہیں۔

حکومتی پروگرام کم آمدنی والی خواتین کی مدد کرتے ہیں اور تقریباً 40 فیصد زچگیاں انہی کے ذریعے ہوتی ہیں لیکن پھر بھی بڑی تعداد میں خواتین مالی مشکلات کا شکار رہتی ہیں۔

ملک میں زچگی کے دوران اموات کی شرح بھی ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے اور سیاہ فام خواتین میں یہ شرح دیگر نسلی گروہوں کے مقابلے میں تقریباً 3 گنا زیادہ دیکھی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا میں وفاقی سطح پر تنخواہ سمیت زچگی کی چھٹی کی کوئی ضمانت نہیں جس کی وجہ سے اکثر مائیں صرف چند ہفتوں میں کام پر واپس جانے پر مجبور نظر آتی ہیں۔

بچوں کی دیکھ بھال یعنی چائلڈ کیئر کے اخراجات بھی دنیا میں سب سے زیادہ امریکا میں ہیں جو اوسط گھریلو آمدن کا تقریباً 40 فیصد تک پہنچ جاتے ہیں۔

یوں امریکا میں ماں بننا ایک عام خاندانی تجربہ ہونے کے بجائے ایک مہنگا اور مالی دباؤ سے بھرپور مرحلہ بن چکا ہے جو خاندانوں کی زندگیوں پر طویل مدتی اثرات چھوڑتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
صحت سے مزید