امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور امن مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی نئی تجاویز کو ’مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘ قرار دے دیا ہے جبکہ ایرانی حکام نے امریکی تجاویز کو ’ایران کی خودمختاری کے خلاف مطالبہ‘ کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔
جہاں خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے وہیں ایران اور امریکا بھی اب ایک دوسرے کو نئے سرے سے آنکھیں دکھا رہے ہیں۔
ان دونوں میں سے نہ کوئی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہے اور نہ کوئی امن تجاویز کو ماننے کے لیے۔
الجزیرہ کے مطابق ایران نے اپنی تازہ تجاویز میں بحری ناکہ بندی ختم کرنے، پابندیاں اٹھانے اور اپنے جوہری پروگرام پر کنٹرول برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے اور ایران اپنی ان تجاویز پر ڈٹا نظر آ رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس صورتِحال میں خود سے شروع کی گئی جنگ میں بری طرح سے پھنسے ہوئے امریکی صدر کو بھی پیچھے ہٹنے کے لیے کچھ خاص یا واضح راستہ نظر نہیں آ رہا ہے۔
ادھر متحدہ عرب امارات نے 2 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ قطر نے اپنے سمندری علاقے میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کی مذمت کی ہے۔
کویت نے بھی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب ایران اور امریکا جنگ کے سبب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 2.69 فیصد اضافے کے بعد 104.01 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔
عرب میڈیا نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا میں جنگ کے خلاف عوامی ردِعمل بڑھ رہا ہے کیونکہ تیل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔