مولانا حسن جان روایتی علوم و فنون میں حوالہ تھے۔اول تا آخراستاد تھے۔سیاست میں بھی زور آزمایا۔گلی گلی بھی بہت گھومے۔زندگی سیاست اور تدریس کے بیچ الجھ کر رہ گئی۔فیض کی طرح کبھی عشق کیا کبھی کام کیا۔کبھی دونوں کیا۔ایوان درس گاہ کے آڑے آیا تو ایوان ترک کردیا۔تدریس میں جت گئے۔عوامی اجتماعات میں بات کرنا بھی چھوڑ دی۔ نائن الیون کے بعد گھروں میں لاشیں آنے لگیں تو بات کہنی ضروری ہوگئی۔مولانا حسن جان نے بات کہہ دی۔ٹی ٹی پی کیا، کچھ شاگردوں کو بھی بات ناگوار گزر گئی۔ایک شاگردنے انہیں بلایا وہ چلے گئے۔دھوکے سے اس نے جان لے لی۔کوفہ کے مکینوں نے وفا کا یہ صلہ دیا۔لوگ سوچتے تھے انکی جگہ کون لے گا بھلا۔مگر انکا جوتا شیخ ادریس ترنگزئی کو پورا آگیا۔شیخ ادریس مولانا کے داماد تھے۔کتاب پر وہی دسترس تھی جو مولانا کو تھی۔حدیث کی چھ مستند کتابوں کو صحاح ستہ کہا جاتا ہے۔ایسا کم ہوا ہے کہ کوئی استاد صحاح ستہ کی ساری کتابیں پڑھائے۔شیخ ادریس نے مگر یہ کیا۔ساتھ ہی انہوں نے انتخابی سیاست میں حصہ لیا۔سسر کی طرح داماد کا معاملہ بھی وہی غالب والا ہوگیا۔ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر۔
شیخ ادریس عجب ہی ملنسار تھے۔کسی ماں کا دل انکے سینے میں دھڑکتا تھا۔انہیں دیکھ اورسن کرلگتا تھا کہ انکے پوتے پوتیاں انکا انتظار کرتے ہوں گے۔انکا نہ ہونا آس پڑوس کے لوگ محسوس کرتے ہوں گے۔ہر علاقے کے کچھ بے گھر مستانے ہوتے ہیں۔چارسدہ کے بھی تھے۔وہ شام شیخ ادریس کے گھر آجاتے تھے۔بشیر جان نام کا ایک نابینا ملنگ نبی کی نعت پڑھتا ہے۔درس کے دوران شیخ ادریس کے پہلو میں بیٹھ جاتا تھا۔اس نے حج کی خواہش کی۔شیخ انہیں عمرے پر لے گئے۔اس نے حسرت کی کہ کعبے کی دیوار کو ہاتھ لگائوں۔شیخ بھرے حرم میں بشیر جان کو کھینچ کھانچ کر دیوار کے پاس لے گئے۔بشیر جان کی دنیا یہیں مکمل ہوگئی۔آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے۔اسکے بعد آئے جو عذاب آئے۔شیخ ادریس تقریر نہیں کرتے تھے بات کرتے تھے۔زبان رواں تھی اور طبعیت کھلی۔عاجزی کے تکبر سے بھی پاک تھے۔کسی کو خوش دیکھ کر دل چھوٹا نہیں کرتے تھے۔وہ خوش تھے اگر شہر میں دو لوگ بھی خوش تھے۔انکا ہاتھ مانگنے والا نہیں تھا۔دینے والا تھا۔کوفے سے آنے والے خطوں کا اعتبار اٹھ چکا تھا۔اسکے باوجودکسی نے چھوٹی سی دکان پر بھی بلا یا توچلے گئے۔دروازے سب کیلئے کھلے تھے۔گھر کا شاید دروازہ ہی نہیں تھا۔لڑکے بھالے ان سے بے تکلف تھے۔جس کا جو دل چاہتا وہ کہتا تھا۔کچے پکے شاعر انہیں شعر سناتے۔انکی ٹوٹی پھوٹی شاعری بھی توجہ سے سنتے۔انکی محفل میں آنے کے لیے جبہ و دستار لازم نہیں تھے۔خود کسی کی محفل میں جاتے تو دستار باہر چھوڑ جاتے۔دل سے قہقہہ لگاتے تھے۔بچوں سے پیار کرتے تھے۔پچھلے سال اپنے طلبا سے کہنے لگے، تم لوگ آج چلے جائوگے تو میری گود اجڑ جائے گی۔تم لوگ تو چلے جاتے ہو، لیکن جب چھٹیاں ہوتی ہیں تو میں مدرسے والی سڑک سے نہیں گزرتا۔دور سے گھوم کر گھر آتا ہوں۔تم لوگوں کے چہرے مجھے یاد آتے ہیں۔
کئی گھروں کے چولہے انکی گرہ سے جلتے تھے۔ان کا ایک بیٹا میڈیکل ڈاکٹر ہے۔ایک بیان میں کہنے لگے، میں نے بیٹے سلمان سے کہا ہے کہ حاجت مندوں کا بہت خیال رکھنا ہے۔اپنے طور پر چیک بھی کرتا رہتا ہوں کہ گڑ بڑ تو نہیں کررہا۔مجھے پتہ چلا ہے لوگ اس سے خوش ہیں۔بس یہی میری کمائی ہے۔شیخ کے بڑے بیٹے بھی میڈیکل کے اسٹوڈنٹ رہے۔پھر انہیں مدرسے میں ساتھی کر لیا۔دراصل شیخ ادریس کے والد حکیم تھے۔جس دکان میں انہوں نے کلینک کیا ہوا تھا وہ دکان باچا خان کی تھی۔یہ گھرانہ رجعت پسند تھا مگر سیاست میں تعلق کانگریسی روایت سے تھا۔یہ کلونیل دور کے صوفی و مجاہد حاجی صاحب ترنگزئی کے سلسلے میں چلے آنے والے لوگ تھے۔باچا خان نے پشتونوں کی معاشرتی اور معاشی اصلاح کیلئے تحریک حاجی صاحب کے ساتھ ہی ملکرشروع کی تھی۔انہوں نے آزاد اسکولوں کا ایک جال بچھایا۔باچا خان کی پہلی گرفتاری بھی غالبا تب ہوئی جب وہ اسکول کی کیاری میں پودے لگا رہے تھے۔خان عبد الولی خان ور غنی خان انہی اسکولوں کے پڑھے ہوئے تھے۔اس سلسلے کا پہلا اسکول اتمانزئی کی اسی مسجد میں قائم ہوا جس کے متولی شیخ ادریس کے بزرگ تھے۔یہی سلسلے باچا خان کو شیخ الہند مولانا محمود الحسن سے اور شیخ ادریس کو باچا خان سے جوڑتے ہیں۔
شیخ ادریس چارسدہ سے الیکشن لڑے تو انکی انتخابی مہم میں اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے عملی طور پر حصہ لیا۔حالانکہ شیخ ادریس مخالف پارٹی جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ ہولڈر تھے۔یہ نسل در نسل چلے آنے والے تعلق کا پاس تھا۔اسی روایت کا پاس رکھتے ہوئے شیخ ادریس نے پچھلے الیکشن میں ایمل ولی خان کو اپنا پسندیدہ امیدوار کہا۔بڑے لوگوں کی بڑی باتیں۔
شیخ ادریس اپنے سسر کی طرح کتاب کی طرف آئے۔وہی مضامین حصے میں آئے جو سسر پڑھاتے تھے۔سسر کی طرح ہی درس گاہ اور ایوان کے بیچ الجھے رہے۔انہی کی طرح سیاست اور گلی سے پھر کنارہ کیا۔پھر وہی حالات آگئے جس کا سامنا کبھی سسر کو تھا۔بارود کی بو پھیل گئی۔بات کہے بغیر چارہ نہیں تھا۔شیخ نے بات کہہ دی۔اس بات نے اپنوں کو بھی آزمایا مگر تول میں کم نکلے۔پہلے سوشل میڈیا کے ندی نالوں میں طغیانی آئی۔زبانیں کم پڑگئیں تو بندوق نکل آئی۔داماد بھی سسر کی طرح کوفے میں نکل گئے۔بچے مکتب میں انتظار کرتے رہے۔شیخ مٹی اوڑھ کر مولانا حسن جان کے پہلو میں سوگئے۔
شیخ ادریس ایک آنکھ رلاتے تھے ایک آنکھ ہنساتے تھے۔اب انکے چاہنے والے دونوں آنکھ رو رہے ہیں۔لوگ تعزیت کیلئے کشاں کشاں چلے آرہے ہیں۔کیا سیاست دان کیا استاد، کیا مسلم کیا سکھ۔کوئی شیخ کے رفقائے کار کو دلاسہ دے رہا ہے کوئی نرینہ اولاد کو۔کوئی گھر میں بیٹھی اس عورت کو بھی پرسہ دے جس نے اپنی زندگی کے دو ایک جیسے مرد ایک ہی جیسے راستے میں کھو دیے ہیں۔مور بی بی! ژوند بہ درتہ غوارو نو۔