• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجلی :گھنٹوں شکل نہیں دکھاتی ۔سوئی گیس :جا آکرآنا بھول جاتی ہے ۔گیس سلنڈر:ہفتہ بھر آسودگی فراہم نہیں کرپاتا۔ موبائل فون:عصر حاضر کی ناگزیر ضرورت ہے ۔

مذکورہ بالا ہر شے کےبل ایسے ایسے ٹیکسز کا گورکھ دھندہ ہیںکہ اچھا خاصا پڑھا لکھا شخص یہ گتھی نہیں سلجھا پاتا۔ جنرل سیلز ٹیکس کی ہی مثال لے لیں جو دنیا کے بیشتر ممالک میں عائدہے،ہمارےہاں بھی نافذہے لیکن کچھ یوں کہ کوئی شے خریدنے اور بیچنے والادونوں ہی یہ ٹیکس ادا کرتے ہیں ۔ایک اورلطیفہ یہ کہ بجلی کا میٹر جو ہم اپنی کمائی سے خریدتے ہیں، اس کا ماہانہ کرایہ بھی ہم ہی اداکرتے ہیں۔باقی سب چھوڑیں صرف بجلی کے بل میں موجود ٹیکسز کی تفصیلات سمجھ لیں توچھوٹے موٹے ماہرِ معیشت تو آپ بھی بن جائیں گے ،آزمائش شرط ہے۔

یہ رونے ہی کم نہ تھے کہ پچھلے روز علی الصبح ایک اور بل کا نزولِ اجلال ہو ا ۔لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی طرف سے ارسال کردہ اس سینی ٹیشن بل کے کونےمیں’’Clean Lahore ‘‘کا لوگو ’شان‘ دکھا رہا ہے ۔تاہم حیرانی کی بات یہ ہے کہ بل میں سوائے گھر کے ایڈریس اور بل کی رقم اور جرمانےکےاندراج کے سوا نہ کسی کا نام ہے نہ شناختی کارڈ نمبر، مکان تک کا نمبر بھی درج نہیں۔ گویا ایسی عجلت تھی کہ ہوم ورک بھی نہیں کیا گیا۔ ایک، گوشوارہ، البتہ موجود ہے۔ مہینہ...بل... جرمانہ...ادائیگی۔ جوبل میرے سامنے ہے،وہ دسمبر 2025ءسے لیکر جنوری،فروری اور مارچ 2026ءتک یعنی چارماہ کا ہے،جس میں بل کی رقم درج ہے ۔ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ جو بل کبھی بھیجا ہی نہیں گیا ،اس کی عدم ادائیگی پر جرمانہ بھی کیا گیا ہے ۔

بل پر دائیں جانب ایک انتباہ البتہ کسی غریب کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب کرنے کو موجود ہے اور قابلِ غور بھی ۔ملاحظہ تو ہر اُس شہری نے کر ہی لیا ہو گاجسے یہ بل ،وصول ہو چکا،یہاں اس کا محض سرسری تذکرہ کرتے چلتے ہیں ۔سنئے اور سر دُھنئے یا دیوار میں دے ماریئے یہ آپ کی صوابدید ہے،ہم ایسی کسی حرکت کے قطعی ذمہ دار نہیں۔

بل پر لکھا ہے کہ ’’ادارہ تین ماہ کی عدم ادائیگی کی صورت میںنا دہندہ کیخلاف چارہ جوئی (چالان، عدالتی کارروائی ،ایف آئی آر وغیرہ )کا حق رکھتا ہے ۔ یا للعجب..... جو بل اب آیا وہ چار ماہ کاہے جس میں عدم ادائیگی کا جرمانہ بھی تحریر ہے تو کیا اس سنگین جرم پر ہر اس غریب آدمی کو دبوچا جائے گا ،جس نے یہ بل ملنے سے بھی پہلے اپنی الہامی قوتیں استعمال کرتے ہوئے آنیوالے بل کے واجبات و جرمانہ ادا نہیں کیا؟۔سرکاری بابو’’ زندہ باد ،شاباش‘‘کہ ایسا خیال انہی کےذہنِ رسا پر اترا ہو گا ۔

کسی بھی متمدن ومہذب معاشرے کی پہچان اس کے کمزور طبقات کے ساتھ حکومتی برتاؤ سے ہوتی ہے۔ آئین عوام اور حکومت کے مابین ایک عمرانی معاہدہ ہی تو ہے جو حکومتی فرائض و عوامی حقوق اورعوامی فرائض و حکومتی حقوق پر مشتمل ایک معتبر دستاویز ہے اور اسی لیے ہر ذی شعور جمہوریت اور آئین کی بالا دستی پربجا طور پہ زور دیتا ہے ۔ جمہوری ممالک میں عوام کو ملنے والے فوائد سےکون آگاہ نہیں ۔

ہمارے حاکم در اصل لاہور کو پیرس بنانے کےعرصہ دراز سے متمنی ہیں ،جہاں کی صفائی و ستھرائی مثالی ہے۔تاہم اسکی وجہ وہاں کی بااختیار مقامی حکومتیں ہیں۔جو ٹیکس اکٹھا کرنے سے لے کر تمام مقامی مسائل حل کرنے کی ذمہ دار ہیں، ہم اس نظام کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے،ان مقامی حکومتوں کا اضافی فائدہ یہ بھی ہے کہ قومی سطح کی قیادت بھی اسی نرسری سے پروان چڑھتی ہے ۔صد حیف کہ ہمارے ہاں کسی بھی جمہوری دور میں مقامی یا بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے یا عدالت عظمیٰ کے حکم کے باوجودہونے ہی نہیں دیئے گئے۔محض اس لیے کہ مقامی حکومتیں بن گئیںتو پھر ایم پی اے ، ایم این اے اور دفتری بابووں کے در پرجبیں سائی کون کرے گا۔پاکستان کے بیشتر مسائل کا حل مقامی حکومتوں کے قیام میں مضمر ہے۔

معاف کیجئے گا بات کہیں اور نکل گئی ۔سینی ٹیشن بل پر واپس آتے ہیں۔پاکستان کی لگ بھگ47 فیصد آبادی خطِ افلاس کے نیچے سسک رہی ہے ،منفعت بخش سرکاری و غیر سرکاری اداروں کو چھوڑ کر ایک عام آدمی کی ماہانہ آمدنی کتنی ہو گی ؟ہم فی الحال اعداد و شمار میں نہیں جاتے بس یہ جانتے ہیں کہ غذائیت کی کمی کے باعث نسل ِنو ذہنی و جسمانی طور پر ہی ناتواں نہیں ان کے قد بھی چھوٹے رہ گئے ہیں۔

کیا کوئی معاشی بقراط اس کا گھر کا بجٹ بنا کر دے سکتا ہے ، جسکے سربراہ کی ماہانہ آمدن 50ہزار ہے،اسی رقم سےاس نے گھرکا کرایہ دینا ہے،بچوں کیلئے روٹی روزی ،فیسوں کی ادائی کا بندوبست کرنا ہے ،دوادارو اور بجلی ،گیس ،پانی کے بل بھی ادا کرنے ہیں ۔ایسے میں سینی ٹیشن بل کے تحت نئے ٹیکسزاورجرمانوں کا نفاذ کیا ایک ظلمِ عظیم محسوس نہیںہوتا ؟۔ وہ بھی ان لوگوں پرجنہیں پیڑول کی قیمتوںنےپہلےہی بدحواس کر رکھا ہے۔یہ بل دراصل ایک ایسے نظام کا عکاس ہے جس میں پالیسی ساز طبقہ زمینی حقائق سے بے خبرتو نہیںلیکن زمین زادوں کو انسان کا درجہ دینے پر بھی تیار نہیں۔کیا یہ سوال پوچھنا جائز نہیں کہ آخر یہ بل کن کیلئے بنایا گیا ہے؟ اگر مقصد واقعی صفائی کی حالت کو بہتر بنانا ہے، تو پھر اسکی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ ان لوگوں پر جو پہلے ہی وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی جیسے ادارے اگر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں، تو شاید ایسے سخت قوانین کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔

لاہور کا حسن صرف اس کے باغات، عمارتوں یا سڑکوں میں نہیں بلکہ اس کے لوگوں میں ہے۔ اگر یہی لوگ اذیت کا شکار ہوں، تو شہر کی خوبصورتی کیا اور صفائی کا کیا مطلب ؟ ۔ ہم تو اپنے جیسوں کو یہی مشورہ دے سکتے ہیں کہ کڑھنے سے کیا حاصل ،بھیجے میں بڑھتے کیمیکل لوچے کو مزید بڑھنے دیں ،شاید اذیت کم محسوس ہو، ورنہ ۔

اٹھائے جا اُن کے ستم اور جیے جا

یونہی مسکرائے جا آنسو پیے جا

تازہ ترین