12 مئی 2007ء پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ باب ہے جسے کراچی کے باشعور عوام آج بھی خون، آگ، خوف اور ریاستی بے بسی کے استعارے کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ یہ وہ دن تھا جب شہر قائد کو ایک منظم سیاسی دہشت گردی کے ذریعے یرغمال بنایا گیا، جب سڑکیں انسانی لاشوں سے بھر گئیں، جب میڈیا پر حملے ہوئے، جب قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے رہے اور جب ایک مخصوص سیاسی جماعت نے اپنے قائد کے ایما پر پورے شہر کو جنگی میدان میں تبدیل کر دیا۔ اس دن کے واقعات نے نہ صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا۔ آج بھی جب 12مئی کا ذکر ہوتا ہے تو ذہنوں میں جلتی گاڑیاں، خون میں لت پت سڑکیں، بندوقیں تھامے مسلح افراد اور خوفزدہ شہریوں کی تصویریں ابھر آتی ہیں۔
یہ سانحہ اُس وقت پیش آیا جب اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کراچی پہنچ رہے تھے۔ وکلاء تحریک اپنے عروج پر تھی اور پورے ملک میں عدلیہ کی آزادی کی بات ہو رہی تھی۔ لیکن کراچی میں حالات کچھ اور رخ اختیار کر چکے تھے۔ شہر پر اُس وقت ایک ایسی جماعت کا غلبہ تھا جو خود کو کراچی کی نمائندہ کہتی تھی مگر عملاً خوف، تشدد اور لسانی سیاست کے ذریعے اپنی طاقت برقرار رکھنا چاہتی تھی۔ اس جماعت کے قائدلندن میں بیٹھ کر ایسی تقاریر کرتے تھے جن سے نفرت، تقسیم اور تصادم کو ہوا ملتی تھی۔ 12 مئی اسی سیاست کا بدترین مظہر تھا۔اس دن کراچی کو عملاً بند کر دیا گیا۔ مختلف شاہراہوں پر مسلح جتھے موجود تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد مقامات پر فائرنگ، جلاؤ گھیراؤ اور راستوں کی بندش کا سلسلہ جاری رہا۔ وکلاء، سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ افسوسناک پہلو یہ تھا کہ ریاستی ادارے مکمل طور پر بے اثر دکھائی دیے۔ سندھ حکومت اُس وقت پرویز مشرف کی اتحادی تھی اور ایم کیو ایم اقتدار کا اہم حصہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ عوام کے ذہنوں میں یہ سوال آج بھی زندہ ہے کہ آخر اُس دن قاتلوں کو کھلی چھوٹ کیوں دی گئی؟
کراچی کے عوام نے ماضی میں بھی لسانی سیاست اور مسلح تنظیمی کلچر کے تباہ کن اثرات دیکھے تھے، مگر 12 مئی نے اس سیاست کا اصل چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ الطاف حسین کی سیاست ہمیشہ خوف کے گرد گھومتی رہی۔ اختلاف رائے برداشت نہ کرنا، مخالفین کو غدار کہنا، طاقت کے ذریعے شہر بند کرانا اور اسلحے کی نمائش کرنا اُس سیاسی کلچر کا حصہ بن چکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ 12 مئی صرف ایک حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک سوچ، ایک ذہنیت اور ایک مسلح سیاسی نظام کا منطقی نتیجہ تھا۔پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت، وفاقیت اور عوامی سیاست کی بات کی۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو تک، پیپلز پارٹی نے آمریت اور تشدد کے خلاف قربانیاں دیں۔ کراچی میں بھی پیپلز پارٹی کے کارکنان نے دہشت گردی اور خوف کے ماحول کا سامنا کیا۔ 12 مئی کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نے واضح طور پر اس واقعے کی مذمت کی اور اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے بارہا کہا کہ کراچی کو اسلحے کے زور پر یرغمال نہیں بننے دیا جا سکتا۔ ان کا مؤقف تھا کہ شہر قائد صرف ایک جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ پورے پاکستان کا معاشی اور ثقافتی مرکز ہے۔یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ 12 مئی کے بعد کراچی کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی آئی۔ عوام آہستہ آہستہ اس حقیقت کو سمجھنے لگے کہ لسانی بنیادوں پر نفرت پھیلانے والی سیاست دراصل کراچی کے مسائل کا حل نہیں بلکہ ان کی جڑ ہے۔ پیپلز پارٹی نے سندھ میں مفاہمت، سیاسی برداشت اور جمہوری عمل کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں بھی پیپلز پارٹی نے یہی پیغام دیا کہ کراچی کو امن، ترقی اور بھائی چارے کی ضرورت ہے، نہ کہ بندوق اور دھونس کی سیاست کی۔
12 مئی کے واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں اکثر بڑے سانحات کی طرح اس واقعے پر بھی مکمل انصاف نہ ہو سکا۔ لیکن تاریخ خاموش نہیں رہتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سچ مزید واضح ہوتا جاتا ہے۔ آج کراچی کے نوجوان یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر کیوں ایک سیاسی جماعت کو اس حد تک طاقت دی گئی کہ وہ پورے شہر کو مفلوج کر دے؟ کیوں اُس دن میڈیا پر حملے ہوئے؟ کیوں نہتے شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ریاست کہاں تھی؟
پیپلز پارٹی پر تنقید اپنی جگہ، مگر یہ حقیقت ہے کہ اس جماعت نے ہمیشہ وفاق پاکستان کی بات کی۔ اس نے سندھی، پنجابی، بلوچ، پختون اور اردو بولنے والوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔ بے نظیر بھٹو جب کراچی آتی تھیں تو ان کے جلسوں میں ہر زبان اور ہر قومیت کے لوگ شریک ہوتے تھے۔ یہی پاکستان کا اصل حسن ہے۔ اس کے برعکس وہ سیاست جو شہریوں کو زبان، نسل یا علاقے کی بنیاد پر تقسیم کرے، وہ بالآخر تباہی ہی لاتی ہے۔
12 مئی کا سانحہ ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ جب سیاست میں اسلحہ داخل ہو جائے تو جمہوریت کمزور ہو جاتی ہے۔ سیاسی اختلاف کو دلیل اور ووٹ سے حل ہونا چاہیے، گولی اور خوف سے نہیں۔ کراچی نے کئی دہائیوں تک لاشیں اٹھائیں، بھتہ خوری دیکھی، ٹارگٹ کلنگ دیکھی، کاروبار بند ہوتے دیکھے، نوجوانوں کو مرتے دیکھا۔ اس شہر کے عوام اب امن چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کراچی دوبارہ روشنیوں کا شہر بنے، جہاں سیاسی کارکن کتاب اٹھائیں، بندوق نہیں۔آج جب ہم 12 مئی کو یاد کرتے ہیں تو یہ صرف ماضی کا نوحہ نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک انتباہ بھی ہے۔ اگر پاکستان کو مضبوط، جمہوری اور پرامن ریاست بنانا ہے تو ہر قسم کی مسلح سیاست، لسانی نفرت اور شخصیت پرستی کو مسترد کرنا ہوگا۔ کراچی کسی ایک جماعت یا ایک فرد کی جاگیر نہیں۔ یہ پورے پاکستان کا دل ہے۔ اس شہر نے ہر قومیت، ہر زبان اور ہر طبقے کو جگہ دی ہے۔ اس شہر کی اصل طاقت اس کا تنوع اور برداشت ہے۔