• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مئی 2025ءکا معرکۂ حق ایک ایسا لمحہ تھا جب پوری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک زندہ نظریہ، ایک ناقابلِ تسخیر جذبہ اور ایک فولادی عزم کا نام ہے۔بھارت برسوں سے طاقت، غرور، جھوٹے پروپیگنڈے اور خطے پر اجارہ داری کے خواب میں مبتلا تھا۔ اسے گمان تھا کہ جدید اسلحہ، رافیل طیارے، اسرائیلی ڈرونز، روسی دفاعی نظام اور عالمی لابیاں شاید اسے ناقابلِ شکست بنا چکی ہیں۔ مگر تاریخ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایمان، حکمت، حوصلے اور قومی اتحاد سے جیتی جاتی ہیں۔جب دشمن نے رات کی تاریکی میں معصوم شہریوں، مسجدوں، بچوں اور بستیوں کو نشانہ بنایا تو پاکستان نے صبر کیا، مگر کمزوری نہیں دکھائی۔ قوم جانتی تھی کہ افواجِ پاکستان خاموش ضرور ہیں، بےبس نہیں۔پھر وہ لمحہ آیا جب پاکستان نے ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘کے ذریعے دشمن کو ایسا جواب دیا جس کی بازگشت دہلی کے ایوانوں سے لے کر عالمی عسکری اداروں تک سنائی دی۔ دنیا نے دیکھا کہ کس طرح پاکستان کے شاہینوں نے فضا کا رخ بدل دیا، کس طرح دشمن کے غرور کو زمین بوس کیا گیا، اور کس طرح خطے میں طاقت کا توازن نئے سرے سے لکھا گیا۔

یہ صرف جنگ نہ تھی، یہ دشمن کے تکبر کا محاسبہ تھا۔یہ اُن خونوں کا حساب تھا جو معصوم پاکستانیوں کی رگوں سے بہائے گئے تھے۔علاقے کا خودساختہ تھانیدار، جو پاکستان کو غزہ بنانے کے خواب دیکھ رہا تھا، چند گھنٹوں میں اپنی حقیقت بھول بیٹھا۔ پاکستان کے دندان شکن جواب، برق رفتار کارروائیوں اور نہ رکنے والے میزائلوں نے دشمن کے غرور کو اس طرح خاک میں ملایا کہ آخرکار اسے عالمی طاقتوں کے دروازے کھٹکھٹا کر جنگ بندی کی بھیک مانگنا پڑی۔یہ صرف عسکری فتح نہ تھی۔یہ معاشی، سفارتی، نفسیاتی، اخلاقی اور نظریاتی فتح بھی تھی۔پاکستان نے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ ہم امن پسند ضرور ہیں مگر کمزور نہیں۔ ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن اگر جنگ ہم پر مسلط کی گئی تو پھر ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم دفاعِ وطن کے لیے آخری حد تک جاتے ہیں۔

افواجِ پاکستان نے بری، بحری اور فضائی ہر محاذ پر ایسی ہم آہنگی، مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا جسے دنیا کے عسکری ماہرین آنے والے برسوں میں بطور کیس اسٹڈی پڑھائیں گے۔ جدید ٹیکنالوجی، سائبر وارفیئر، الیکٹرانک جیمنگ، سپیس بیسڈ انٹیلی جنس، پریسائز میزائل سسٹمز اور مربوط عسکری حکمتِ عملی نے دشمن کو بوکھلا کر رکھ دیا۔رافیل کا غرور ٹوٹا۔ڈرونز کی آنکھیں اندھی ہوئیں۔فضائی دفاعی نظام لرز اٹھے۔اور دنیا نے پہلی بار دیکھا کہ پاکستان صرف اپنے دفاع کی صلاحیت نہیں رکھتا بلکہ خطے کے تزویراتی توازن کو بدلنے کی قوت بھی رکھتا ہے۔

اس معرکے میں پاکستانی قوم بھی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔ نوجوان سوشل میڈیا کے محاذ پر سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ پاکستانی میڈیا نے ذمہ داری اور حب الوطنی کا حق ادا کیا۔ سفارت کاروں نے عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ جرات سے لڑا۔ سائنس دانوں اور انجینئروں نے اپنی محنت سے ثابت کیا کہ خود انحصاری ہی حقیقی طاقت ہے۔اور پھر دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ پاکستان نے فتح کے باوجود تحمل، وقار اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ سپر پاورز کی مداخلت پر جنگ بندی قبول کرکے پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا علمبردار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری میں پاکستان کی اہمیت، وقار اور relevance پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو کر ابھری۔

آج پوری قوم اپنے شہداء کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر وطن کی حرمت محفوظ بنائی۔ یہ فتح اُن ماؤں کی بھی ہے جنہوں نے اپنے بیٹوں کو وطن پر قربان ہونے کے لیے پروان چڑھایا۔ یہ اُن بچوں کی بھی فتح ہے جنہوں نے اپنے باپوں کو سرحدوں پر کھڑے دیکھا۔ یہ اُن مزدوروں، کسانوں، اساتذہ، صحافیوں اور عام پاکستانیوں کی بھی کامیابی ہے جن کی دعائیں افواجِ پاکستان کے ساتھ رہیں۔اور ایسے ہی لمحوں میں دل سے یہ صدا نکلتی ہے:خدائے ذوالجلال! تیرا کروڑ ہا شکرکہ تو نے پاکستان کو سرخرو فرمایا،اپنوں اور غیروں میں عزت عطا کی،اور اس قوم کو فتح و وقار کی نئی داستان لکھنے کی توفیق دی۔اسی جذبے کی ترجمانی میری ان شعری سطروں میں بھی ہے’اپنے ازلی دشمن بھارت کے نام‘

ہم کو دیوار سے لگاؤ گے

آتنک گھس بیٹھیے بتاؤ گے

چھپ کے تیرگی کی راتوں میں

ایسی بزدلی دکھاؤ گے

مسل کے پھول اور کلیوں کو

مسجدوں اور میری گلیوں کو

روک کے میرے دریا تم

پھر جشن بھی مناؤ گے

بول کے نت نئے جھوٹ ذرا

اتنی آسانی سے چھوٹ جاؤ گے

کبھی رافیل کے سرور میں تھے

اس قدر زعم اور غرور میں تھے

چشمِ عالم، فلک نے دیکھ لیا

اور جھپکتی پلک نے دیکھ لیا

میرے شاہین مائیں جنتی ہیں

شہادتوں کی امین بنتی ہیں

تجھ کو منہ توڑ جو جواب ملے

تری جارحیت کے تجھے حساب ملے

جاں پہ کھیل کے مرے جیالوں نے

تری مانگ میں سندور بھرے

کاری ضربیں ابھی لگانی ہیں

جگ کو رسوائیاں تری دکھانی ہیں

(کالم نگارستارۂ امتیاز (ملٹری)، پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر (بریگیڈیئر)، ممتاز دفاعی تجزیہ نگاروشاعر ہیں)

تازہ ترین