امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے دوران امریکی وفد کی جانب سے غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ چین جانے والے اعلیٰ حکام اور کاروباری شخصیات نگرانی اور ہیکنگ کے خطرے کے پیشِ نظر اپنے ذاتی موبائل اور لیپ ٹاپس چین لے کر ہی نہیں گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی وفد نے چین میں محدود فیچرز والے عارضی فون اور کنٹرولڈ کمیونیکیشن سسٹم کا استعمال کیا۔
اس حوالے سے سیکریٹ سروس کے سابق اسپیشل ایجنٹ اور سیف ہیون سیکیورٹی گروپ کے ایگزیکٹیو پروٹیکشن کے ڈائریکٹر بل گیج نے میڈیا کو بتایا کہ چین ایک بڑے پیمانے پر نگرانی کرنے والی ریاست ہے، چین میں الیکٹرانک مواصلات بھی محفوظ نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کو خبردار کیا گیا کہ چین میں نگرانی اور ہیکنگ کے خطرات ٹیکنالوجی کے روزمرہ استعمال تک بھی پھیلے ہوئے ہیں، اس لیے یہاں مسافر عام طور پر مقامی چارجنگ سسٹمز استعمال کرنے کے بجائے امریکا سے لائے گئے منظور شدہ چارجرز اور بیرونی بیٹری پیک پر انحصار کرتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام چین میں اپنے فون چارج کرتے وقت بھی خدشات کا شکار رہے، کیونکہ اُنہیں خوف تھا کہ چارجنگ سسٹمز یا نیٹ ورکس کے ذریعے خفیہ سافٹ ویئر انسٹال کر کے ان کا ڈیٹا چوری کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیو نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ چینی حکومت قانون کے مطابق ڈیٹا پرائیویسی اور سیکیورٹی کے تحفظ کو اعلیٰ ترجیح دیتی ہے۔
اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ چینی حکومت کو کبھی بھی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کاروباری اداروں یا افراد کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ضرورت نہیں پڑی اور نہ ہی مستقبل میں کبھی ہو گی۔