• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں آج کل سوشل میڈیا پر ہر طرف انمول عرف پنکی کوئین کے چرچے ہیں۔ جس نے دنیا کے باقی ہر مسئلے کو حاشیے پر دھکیل دیا ہے۔ کہانی اس قدر سنسنی خیز، دلچسپ مگر حیران کن ہے کہ اس پر یقین کرنے کو دل نہیں مانتا۔ ہم نے اس سے پہلے بھی ایسی کئی کہانیاں سنی ہیں جو یا تو کسی واقعے یا سانحے کے رونما ہونے کے ٹریلر کے طور پر استعمال ہوئیں یا کسی ناپسندیدہ صورتحال کے وقتی تدارک کیلئے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہمیشہ خواتین کے حقوق کی پامالی کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں اور خواتین کو غیرت کے نام پر اور جائیداد سے محروم کرنے کے لیے کاروکاری اور ونی جیسی وحشیانہ رسموں کے ذریعے سنگ دلی سے قتل کر دیا جاتا ہے یا قرآن سے شادی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ وہاں ایک عام خاتون کسی کنیز سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی جو تمام عمر مردوں کے اس معاشرے میں مختلف حیثیتوں میں ناروا امتیازی سلوک کا شکار رہتی ہے لیکن اسی معاشرے میں کبھی کبھار ایسی "شہزادیاں" بھی سامنے آ جاتی ہیں جو ہر قانون سے بالاتر ہوتی ہیں اور انہیں دیکھ کر یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے ملک میں عورتیں واقعی اتنی مجبور اور لاچار ہیں؟انہی میں آج کل منشیات فروش ڈان پنکی کوئین بھی شامل ہے جس کا بولڈ اور بے با کانہ اندازِ خرام، خود اعتمادانہ گفتگو اور ہاتھ میں پانی کی بوتل پکڑے لہراتے ہوئے عدالت کے برآمدوں سے گزرنا جبکہ پولیس اہلکار ہاتھ باندھے ایسے چل رہا تھا جیسے وہ واقعی اس کا کو ئی اردلی ہو۔ پھر عدالت سے کوئین کو جسمانی ریمانڈ سے استثنا ملنا اور پنکی کوئین کا اپنے کسٹمرز کیلئے آڈیو پیغام، بظاہر تو یہ سب کچھ یوں ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کا مردانہ غلبے والا معاشرہ راتوں رات بدل گیا ہے۔ اور اسے ایک کو کینی کوئین چلا رہی ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے کی یہ تصویر بھی اسی تصویر کی طرح بھیانک ہے جس میں عورت پیدا ہی تذلیل سہنے کے لیے ہوتی ہے۔ یہ اس گلے سڑے نظام کی تصویر ہے جہاں انصاف نا پید ہے۔ جہاں اپنے مفادات کی خاطر کسی جنسی تفریق کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ جہاں اگر ضرورت پڑے تو اپنی ماؤں بہنوں کے سروں سے چادر چھین لی جاتی ہے اور کبھی انہیں پنکی کوئین کی طرح سرکش دکھایا جاتا ہے۔ یہ وہ نیم مردہ معاشرہ ہے جہاں انصاف کے نام پر سیاسی انتقام اور مذہبی ٹچ کے ذریعے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاتی ہے۔ یہاں ایک طرف پنکی کوئین ،فرح گوگی اور ایان علی جیسی قانون سے بالاتر" شہزادیاں" پائی جاتی ہیں اور دوسری طرف وہ معزز خواتین جنہیں کنیزوں کی طرح ڈیل کیا جاتا ہے۔ جس کی تازہ ترین مثال 11 مئی کو ہونے والے عورت مارچ اور مدر ڈے کے موقع پر کراچی میں محترمہ شیما کرمانی پر پولیس کا تشدد شامل ہے۔ اس سے پہلے عوامی حقوق کیلئے فعال محترمہ ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی 14 سالہ قید اور پولیس کے متشدد رویوں نے عورتوں کے حقوق اور احترام کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا یہ وہی پولیس ہے جو پنکی کوئین کے حضور ایک غلام کا کردار ادا کرتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے۔ ان کنیزوں کی فہرست میں کئی قابل احترام خواتین شامل ہیں جنہوں نے ہمارے ملک میں جمہوریت اور عوامی حقوق کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا تھا جس کی سزا کے طور پر اس نظام نے انہیں عبرت کا نشان بنا دیا تھا۔ ان میں سب سے بڑا نام بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کا ہے جن کے بارے میں قائد نے فرمایا تھا کہ میں نے حصولِ پاکستان کی جنگ اپنے ٹائپ رائٹر اور اپنی ہمشیرہ فاطمہ جناح کی مدد سے تن تنہا لڑی تھی۔ اس عظیم خاتون کو اس ظالمانہ نظام کے سرخیل جنرل ایوب نے غدار قرار دے دیا تھا گویا آزادی کی جنگ غداری تھی۔ پھر اس میں ہمیں محترمہ نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نظر آتی ہیں جن کی پوری زندگی ریاستی عتاب میں گزری اور اسی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ اسی فہرست میں محترمہ کلثوم نواز اور مریم نواز شریف بھی دکھائی دیتی ہیں جنہیں ناحق پابند سلاسل کیا گیا تھا۔ آج کے دور میں بھی محترمہ ڈاکٹر یاسمین راشد اور پی ٹی آئی کی کئی خواتین اس ظالمانہ نظام کے ہاتھوں ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ خصوصاََ ڈاکٹر یاسمین راشد جو نہ صرف پیرانہ سالی میں ہیں بلکہ کینسر جیسے موذی مرض سے نبرد آزما ہیں ۔جہاں تک انمول پنکی کے بارے میں بنائی گئی کہانی کا ذکر ہے تو وہ بھی کسی جاسوسی ناول کی کہانی لگتی ہے کہا جاتا ہے کہ پنکی کوئین گزشتہ 13 سال سے منشیات کا دھندا کر رہی تھی اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ حالانکہ وہ ایک مرتبہ گرفتار بھی ہو چکی ہے اور بقول اس کے، اس نے کروڑوں روپے پولیس کو رشوت دے کر رہائی حاصل کی تھی۔ کراچی میں 14 بنگلوں کی مالک اس خاتون کو ایک چھوٹے سے فلیٹ سے چند پولیس اہلکاروں نے گرفتار کر لیا وہ بھی اس طرح کہ وہاں اس کا کوئی ساتھی نہ تھا اور وہ خود گرفتاری کیلئے تیار بیٹھی تھی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ پورے ملک میں منشیات کا دھندا کرنے والی یہ خاتون اس چھاپے سے بالکل بے خبر تھی۔ یوں لگتا ہے کہ یہ ڈرامہ اسٹیج کیا گیا ہے۔جس میں کئی جھول ہیں۔ اس کے پیچھے کیا حقائق ہیں اور اس کی آڑ میں کیا ہونے والا ہے۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ہماری عدالتی تاریخ کے مطابق اس کیس کا نام یوں ہونا چاہیے اور عدالتی اہلکار کو یوں آواز لگانی چاہیے’’ مقدمہ پنکی کوئین بنام کنیز۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ حاضر ہو‘‘۔آج کے شعر

ہونے کا احساس دلایا اور پھر ہونا چھین لیا

پہلے ’میں‘ سے پیار سکھایا اور پھر مجھ کو مار دیا

صرف اطاعت کا جھگڑا تھا چابی بھی تھی رسّہ بھی

کسی کے حصے تخت آیا تھا، کسی کو تختہ دار دیا

تازہ ترین