• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انمول عرف پنکی کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی، حیران کن انکشافات

فوٹو: سوشل میڈیا
فوٹو: سوشل میڈیا

کراچی میں منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ہونے والی ملزمہ انمول عرف پنکی کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے جس میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ 

تحقیقات رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنکی کا کہنا ہے کہ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ گرلز اسکول سہراب گوٹھ کراچی سے حاصل کی۔ ماڈلنگ اور اداکاری کے شوق میں 2006 میں لاہور شفٹ ہوئی۔ مینار پاکستان پر ایک لڑکی سے ملاقات ہوئی اور بعد میں اسی کے ساتھ رہنے لگی۔ ماڈلنگ اور اداکاری کے لیے فلموں کے ڈائریکٹرز کے دفاتر جاتی تھی۔

پنکی کے مطابق اسی دوران ایک فلم ڈائریکٹر کے دفتر میں پولیس افسر سے ملاقات ہوئی اور پھر اس سے شادی ہوئی۔ انمول پنکی کے مطابق سابق شوہر نے اسے اپنے منشیات فروش گینک کا حصہ بنایا اور اسی کے ذریعے گروپ ممبران سے ملاقات ہوئی۔

رپورٹ میں پنکی کا کہنا ہے کہ گروپ ممبر کے کہنے پر شوہر سے طلاق لی اور علیحدگی کے بعد منشیات فروشی کا اپنا کام شروع کیا۔

رپورٹ کے مطابق پنکی کا کہنا ہے کہ گروپ ممبر خاتون نے ایک سیاہ فام افریقی باشندے سے شادی کر رکھی ہے، جس کا شوہر کوکین پاکستان اسمگل کرتا تھا۔ 

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 2024 میں انمول پنکی کو سی آئی اے لاہور نے گرفتار کیا۔ پنکی نے بتایا کہ سابق شوہر کے لیے کام کے دوران منشیات بریف کیس میں رکھ کر کراچی کے ایک شخص کو پہنچاتی تھی۔

انمول پنکی کے مطابق سابق شوہر کا نیٹ ورک راولپنڈی، لاہور اور کراچی تک پھیلا ہوا ہے اور اس نے مجھے کراچی کا انچارج بنایا۔ شوہر سے علیحدگی کے بعد منشیات کی سپلائی کے لیے خاتون کو ملازم رکھا۔ لاہور کی ایک خاتون بھی کوکین سپلائی کرتی ہوں۔

تحقیقات کے مطابق ملزمہ کا کہنا ہے کہ کراچی کے لیے سات رائڈرز پر مشتمل نیٹ ورک بنایا گیا تھا، جن میں سے چار گرفتار ہوئے اور بعد میں کام چھوڑ دیا۔ تین رائڈرز اب بھی کام کر رہے ہیں۔ پیسوں کے لین دین کے لیے ایک شخص کے نام پر بینک میں اکاؤنٹ کھولا گیا۔

قومی خبریں سے مزید