• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پسند کی شادی کے تنازع پر گھروں کو آگ لگانے کا کیس، 4 ملزمان 6 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

اسکرین گریب/ جیو نیوز
اسکرین گریب/ جیو نیوز 

جیکب آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت میں گوٹھ صدیق آرائیں میں گھروں کو آگ لگانے کے مقدمے کی سماعت ہوئی، عدالت نے گرفتار 4 ملزمان کو 6 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

پولیس کے مطابق کیس میں نامزد پانچواں گرفتار ملزم پہلے ہی پولیس ریمانڈ پر ہے جبکہ آج گرفتار کیے گئے ایک اور ملزم کو کل ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ایس ایس پی کے مطابق 5 مئی کو پسند کی شادی کے تنازع پر گھروں کو آگ لگائی گئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ 20 نامزد سمیت 32 ملزمان کے خلاف درج کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ جیکب آباد میں پسند کی شادی تنازع میں پورا گاؤں جلنے کے بعد پولیس پکٹس قائم کردی گئی، لڑکی کے والد نے گھروں کو آگ لگانے کا الزام مسترد کر دیا، ان کا کہنا تھا کہ بیٹیاں بھی ہماری گئیں اور پرچہ بھی ہم پر ہوا۔

جیکب آباد کے گاؤں محمد صدیق آرائیں میں پسند کی شادی کے تنازع پر برڑو برادری کے گھروں کو آگ لگائے جانے کے ہولناک واقعے کے بعد علاقے میں صورتحال تاحال انتہائی کشیدہ ہے۔ پولیس نے مزید خون خرابے کو روکنے کے لیے گاؤں میں مستقل پکٹس (مورچے) قائم کر کے سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے، جبکہ واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ڈی ایس پی ٹھل کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ 

دوسری جانب معاملے میں لڑکی کے والد کے چونکا دینے والے بیانات کے بعد نیا موڑ آ گیا ہے۔ لڑکی کے والد رفیق چنہ نے میڈیا کے سامنے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید