اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ ِمتحدہ عرب امارات کو خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے جو محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی سیاسی صف بندی کی جانب ایک نمایاں پیشرفت بھی ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت کیا گیا جب خطے میں جنگی صورتحال، توانائی بحران اور نئی دفاعی شراکتیں عالمی سیاست کا رخ متعین کررہی ہیں۔ بھارتی وزیراعظم کے دورہ یو اے ای کے دوران دفاع، توانائی اور سرمایہ کاری کے اہم معاہدوں پر دستخط کئے گئے اور بھارتی حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق بھارت اور یو اے ای کے درمیان اسٹرٹیجک دفاعی تعاون اور تیل ذخائر سے متعلق معاہدے طے پائےہیں۔ یہ بات قابل ذکرہے کہ بھارت، یو اے ای کے ساتھ پاکستان اور سعودی عرب طرز کے دفاعی معاہدے کا خواہشمند ہے اور موجودہ دورہ اس جانب ایک اہم قدم ہے۔
یہ محض اتفاق نہیں کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ یو اے ای سے کچھ روز قبل اسرائیلی وزیراعظم کے آفس سے یہ بیان جاری کیا گیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیل، ایران جنگ کے دوران یو اے ای کا خفیہ دورہ کیا اور یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی تاہم یو اے ای نے نیتن یاہو کے دورہ یو اے ای کی فوری تردید کی اور اسرائیلی دعوے کو گمراہ کن قرار دیا۔ امارات کی دو ٹوک تردید اس بات کا مظہر ہے کہ نیتن یاہو نے اس مبینہ دورے کا سیاسی فائدہ اٹھاکر اور سرخ لکیر عبور کرکے یو اے ای کی ساکھ خراب کی۔ ساتھ ہی اسرائیل، سعودی عرب سمیت دوسرے خلیجی ممالک کو یہ پیغام دینا چاہا ہے کہ کچھ عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ پس پردہ قریبی تعلقات ہیں جس کا مقصد عرب حکومتوں اور خلیجی ریاستوں کے درمیان فاصلے پیدا کرنا اور ایران کو یو اے ای کے خلاف اکسا کر مزید حملوں کا جواز پیدا کرنا ہے تاکہ یو اے ای کا اسرائیل پر انحصار بڑھ سکے جو یقیناً اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی چال ہے اور وہ ذاتی مفادات کیلئے دوست ممالک کی قربانی دینے کیلئے بھی تیار ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ یو اے ای کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان عام پروٹوکول سے ہٹ کر خود بھارتی وزیراعظم کے طیارے کے دروازے پر استقبال کیلئے گئے اور نریندر مودی، شیخ محمد بن زید سے بغلگیر ہوئے۔ بھارتی وزیراعظم نے یو اے ای کا دورہ ایسے موقع پر کیا، جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے اور خلیجی ریاستیں نئے دفاعی اتحاد تلاش کر رہی ہیں۔ بھارت اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو ایک متوازن طاقت کے طور پر پیش کررہا ہے۔ ایک طرف وہ ایران سے اقتصادی روابط برقرار رکھنا چاہتا ہے تو دوسری طرف یو اے ای کے ساتھ پاکستان، سعودی عرب طرز پر دفاعی معاہدے کا خواہشمند ہے جس میں نظریات سے زیادہ مفادات کو ترجیح حاصل ہے۔ بھارت کی کوشش ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے دوران وہ اپنی تیل سپلائی محفوظ بنائے اور اس مقصد کیلئے یو اے ای ایک قابل اعتماد اتحادی کے طور پر سامنے آیا ہے۔
مشرقِ وسطی میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور مودی، نیتن یاہو کے یو اے ای کے دورے اسی بدلتی بساط کے مہرے ہیں۔ ان دوروں میں ایک مشترک پہلو بھی نمایاں ہے کہ دونوں رہنما یو اے ای کو اپنی علاقائی حکمت عملی کا مرکزی شراکت دار سمجھتے ہیں۔ بھارت کیلئے یو اے ای توانائی اور تجارت کا مرکز ہے جبکہ اسرائیل کیلئےوہ ایران کے مقابل ایک اسٹرٹیجک مورچے کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ صورتحال غور طلب ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یو اے ای میں 1.7 ملین سے زائد پاکستانی روزگار سے وابستہ ہیں جو ہر سال 7 ارب ڈالر سے زائدکی ترسیلات زر پاکستان بھیج رہے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کی یہ مذموم سازش ہے کہ کسی طرح یو اے ای کو اپنے ساتھ ملاکر اسےپاکستان سےبدظن کیا جائے اور پاکستان کی معیشت کو تباہی سے دوچار کیا جائے۔ امریکہ، ایران جنگ کے دوران یو اے ای کا پاکستان سے 3.5 ارب ڈالر سے زائد قرضے کی واپسی کا تقاضہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ آج جب بھارت اور یو اے ای کے درمیان دفاعی تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں اور اسرائیل خلیج میں اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے، پاکستان کیلئے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کا ازسرنو جائزہ لے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر جن کے یو اے ای کے حکمرانوں کے ساتھ ذاتی و دوستانہ تعلقات ہیں، فوری طور پر یو اے ای کا دورہ کریں تاکہ موجودہ کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کیا جاسکے اور یو اے ای کو واضح یقین دہانی کرائی جا سکے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کسی بھی طرح یو اے ای کے مفادات کے خلاف نہیں۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا دورہ یو اے ای نہ صرف دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مستحکم کرے گا بلکہ خطے میں پاکستان کے مثبت کردار کو بھی اجاگر کرےگا۔