برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے انگلینڈ اور ویلز کی جیلوں میں قید ہزاروں قیدیوں کی رہائی کی اسکیم پر عمل درآمد روک دیا۔
پی سی اینڈریو ہارپر کی بیوہ سمیت زندہ بچ جانے والوں اور دیگر متاثرین کے اہلِ خانہ کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کے لیے متعارف کرائی جانے والی اس اسکیم پر تنقید کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم کی طرف سے سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے۔
اس اسکیم کے تحت جیلوں میں سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث قیدیوں کے لیے گنجائش بنانے کی غرض سے معمولی جرائم میں قید ایسے قیدی جو اپنے سزا کا ایک تہائی کاٹ چکے ہیں، انہیں رہائی دی جانی تھی جو اپنی بقیہ سزا کیمونٹی میں پوری کریں گے، ممکنہ طو رپر ستمبر میں اس کا نفاذ ہونا تھا۔
جسٹس سیکریٹری الیکس نورس کا کہنا ہے کہ پالیسی کے نفاذ میں توقف کا مقصد حکومت کی طرف سے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس اسکیم کے تحت ایسے افراد کو فائدہ ہو جو اس کے حق دار ہیں اور اس پالیسی پر 100 فیصد درست عمل درآمد ہو۔
وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ اس پالیسی کے تحت کسی بھی قیدی کو اس وقت تک رہا نہیں کیا جائے گا جب تک عوام کے لیے ممکنہ ہر خطرے کا جائزہ نہیں لیا جاتا، جہاں تبدیلیوں کی ضرورت ہے ہم اسے کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔