امریکا نے فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز پر عائد پابندیاں ختم کر دیں۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک ہفتہ قبل امریکی وفاقی جج نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ان پابندیوں سے فلسطینیوں کی آزادیٔ اظہارِ رائے متاثر ہو رہی ہے۔
امریکی محکمۂ خزانہ نے اپنی ویب سائٹ پر فرانسسکا البانیز کا نام پابندیوں کی فہرست سے ہٹانے کی تصدیق کی ہے۔
عدالت میں دائر مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ فرانسسکا پر پابندیاں اسرائیل کی غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی سزا کے طور پر لگائی گئیں۔
جج رچرڈ لیون نے اپنے فیصلے میں کہا کہ امریکی حکومت نے اقوامِ متحدہ کی ماہر کی رائے اور مؤقف کو دبانے کی کوشش کی، حالانکہ ان کی سفارشات قانونی طور پر لازمی نہیں تھیں۔
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے جولائی میں فرانسسکا البانیز پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
فرانسسکا پر اسرائیل کے خلاف ’متعصبانہ سرگرمیوں‘ اور عالمی فوجداری عدالت میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف کارروائی کی حمایت کا الزام لگایا گیا تھا۔
فرانسسکا البانیز نے اس سے قبل کہا تھا کہ پابندیوں کا مقصد میرے مشن کو کمزور کرنا ہے۔
امریکی حکومت کی پابندیوں کے خلاف عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے فرانسسکا نے اپنے خاندان اور حامیوں کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔
یاد رہے کہ فرانسسکا البانیز نے 1 رپورٹ میں 48 عالمی کمپنیوں پر غزہ جنگ میں اسرائیل کی معاونت کا الزام عائد کیا تھا جن میں بڑی ٹیک کمپنیاں بھی شامل تھیں۔