• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میٹا میں بڑے پیمانے پر چھانٹیاں، ملازمین کو 16 ہفتوں کی تنخواہ کیساتھ رخصت کر دیا گیا

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اپنے تقریباً 8 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے جو کمپنی کی مجموعی افرادی قوت کا 10 فیصد بنتا ہے۔

میٹا کمپنی کے مطابق یہ اقدام اخراجات کم کرنے، ادارہ جاتی ڈھانچے کو مؤثر بنانے اور مصنوعی ذہانت پر بڑھتی سرمایہ کاری کے باعث کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا میں متاثرہ ملازمین کو 16 ہفتوں کی بنیادی تنخواہ بطور سیورینس دی گئی ہے جبکہ ہر مکمل ملازمت کے سال پر مزید 2 ہفتوں کی اضافی تنخواہ بھی دی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو 18 ماہ تک طبی سہولتوں کی کوریج فراہم کی جائے گی، دیگر ممالک میں ملازمین کو مقامی قوانین کے مطابق اسی نوعیت کے پیکجز دیے جائیں گے۔

کمپنی نے چھانٹیوں کے ساتھ ساتھ 7,000 سے زائد ملازمین کو نئی مصنوعی ذہانت ٹیموں میں منتقل کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، اس طرح مجموعی طور پر تقریباً 20 فیصد افرادی قوت اس تبدیلی سے متاثر ہو گی۔

میٹا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کمپنی اب کم مینیجمنٹ اور چھوٹی ٹیموں کے ذریعے تیز رفتار فیصلے اور بہتر کارکردگی حاصل کرنا چاہتی ہے۔

کمپنی رواں سال مصنوعی ذہانت اور نئے ڈیٹا سینٹرز پر تقریباً 145 ارب ڈالرز تک خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

واضح رہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں چھانٹیوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکنالوجی کی صنعت میں 52,050 ملازمین کو فارغ کیا گیا ہے جن میں مصنوعی ذہانت سے متعلق تبدیلیاں ایک بڑی وجہ بن کر سامنے آئی ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید