بھارتی چیف جسٹس سوریہ کانت کے ایک متنازع بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نامی طنزیہ سیاسی تحریک تیزی سے مقبول ہو رہی ہے جس میں زیادہ تر جنریشن زی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
بھارتی چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران کہا تھا کہ کچھ بے روزگار نوجوان ’کاکروچ‘ کی طرح نظام پر حملہ آور ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر حکومت کے خلاف سرگرم کارکن بن جاتے ہیں، بعد میں انہوں نے وضاحت دی کہ میرا یہ بیان تمام نوجوانوں کے لیے نہیں تھا۔
اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا جہاں بے روزگاری، مہنگائی اور سیاسی تقسیم سے پریشان بھارتی نوجوانوں نے اسے اپنی توہین قرار دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 30 سالہ ابھیجیت دیپکے نے طنزیہ انداز میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے سوشل میڈیا پر مہم شروع کی جسے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ پر طنز قرار دیا جا رہا ہے۔
چند دنوں میں پارٹی کے انسٹاگرام فالوورز 3 ملین سے تجاوز کر گئے جبکہ 350,000 سے زیادہ افراد نے کمیونٹی کی آن لائن رکنیت حاصل کی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جین زی کی اکثریت والی اس تحریک میں کئی اپوزیشن رہنما بھی شامل ہو چکے ہیں، پارٹی کا منشور نوجوانوں کی بے روزگاری، میڈیا پر دباؤ اور سیاسی نظام پر کھلم کھلا طنز اور تنقید ہے۔
واضح رہے کہ بھارت میں ہر سال 8 ملین سے زائد گریجویٹس تعلیم مکمل کرتے ہیں مگر گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح 29.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے جس کے باعث نوجوانوں میں غصہ بڑھ رہا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو نوجوانوں کی مایوسی، غصے اور سیاسی بے چینی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔