• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اٹھارہ مئی کو بھارتی وزیراعظم جب ناروے کے سرکاری دورے پر اوسلو پہنچے تو یہاں پر موجود انڈین ایمبسی اور بھارتی لابی نے بڑے طمطراق کے ساتھ اس دورے کو تاریخی گردانتے ہوئے بھارت کو ایک سپر پاور اور نریندر مودی کو ایک بڑے عالمی لیڈر کے طور پر پیش کیا۔ بڑے پیمانے پر روپیہ پیسہ بہا کر نریندر مودی کو بھارت کا پسندیدہ لیڈر پیش کیااور دورے کوناروے اور سکنڈے نیویا کے بھارت کے ساتھ تعلقات کے نئے دور کا آغاز قرار دیا۔ کیونکہ بھارت یہ سمجھ رہا ہے کہ پچھلے ایک سال سے امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے یورپی اتحادیوں پر نافذ کیے جانے والے تجارتی ٹیرف اور نیٹو کے حوالے سے یورپی اتحادیوں پر کڑی تنقید کی بدولت اب یورپ اور سکنڈےنیوین ممالک نئے تجارتی معاہدوں اور سفارتی تعلقات کے متلاشی ہیں۔ اس میں شک نہیں ہے کہ یوکرائن کی جنگ نے بھی یورپ کو بڑی حد تک پریشانی سے دوچار کر رکھا ہے جسکے یورپی معیشت پر بہت سے منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔اسکے ساتھ ہی ایران امریکہ جنگ نے یورپی معیشت کو بہت بڑا دھچکے سے دوچار کیاہے۔اس ساری صورتحال میں یورپ کیلئے سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ ان تمام مسائل کے حل کیلئےیورپ چاہنے کے باوجود کوئی کردار ادا کرنے سے قاصر ہے لہٰذا یہ تاثر بن رہا ہے کہ یورپ کنارے پہ کھڑے ایک تماشائی کی حیثیت میں چلا گیا ہے جو دوسروں کے کیے ہوئے فیصلے کا مرہون منت ہو گا۔

ان حالات میں یورپ کی بھارت کی طرف سفارتی پیشقدمی کو اسکی بین الاقوامی تنہائی سے نکلنے کی ایک سعی تصور کیا جا رہا ہے۔ اسکی دوسری وجہ یہ ہے کہ بھارت بھی اپنے بڑے دعووں اور بڑھکوں کے بر عکس اس وقت بین الاقوامی سطح پر غیر اہم ہو چکا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان کم ہوتی کشیدگی کے بعد بھارتی اہمیت کم ہو رہی ہے اور پھر ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کے مفاہمتی کردار نے بھارت کو خطے میں سفارتی تنہائی ہی نہیں بلکہ وقتی طور پر بے وقعت بنا دیا ہے۔ ایسےمیں بھارت کا یورپ کی طرف رجوع کرنا اور تجارتی معاہدوں کی بھر مارکو دونوں فریقین کی اپنی اپنی اہمیت کو برقرا رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم بھارت اپنے ماضی کی سفارتی غلطیوں کا اسیر رہتے ہوئے نئی سفارتکاری میں بھی روا رکھی گئی پرانی پالیسیوں سے کچھ سیکھنے کی بجائے اپنی اسی روایتی ڈگر پر پر گامزن ہے ۔ مودی سمجھ رہے تھے کہ وہ اپنی خود پسندی اور رعونت کو برقرا رکھتے ہوئے یورپ اور خاص کر سکنڈے نیویا سے اپنے من پسند نتائج حاصل کر پائیں گے۔ لیکن اوسلو پہنچنے کے ایک گھنٹے کے اندر اندر ہی بھارت اور مودی کی رعونت چکنا چور ہو گئی۔اور مودی کی طرف سے صحافتی برادری سے روا رکھے گئے نامناسب رویے نے ایک ایسی بحث کو جنم دیا جس نے بھارتی وزیر اعظم کے دورے کے تمام متوقع مقاصد پر پانی پھیر دیا۔یہ مختصر سا تین سیکنڈ کا ایک واقعہ ہے کہ نارویجن وزیراعظم کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے اختتام پر نریندرمودی سوالات کا جواب دیے بغیر وہاں پر موجود صحافیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے چلے گئے جبکہ نارویجن وزیر اعظم وہاں پر موجود رہے۔

مودی جیسے ہی وہاں سے نکلنے لگے تو ایک نارویجن صحافی نے بلند آواز میں کہا کہ ’’تم آزادی صحافت کے علمبرداروں کے سوال کا جواب کیوں نہیں دیتے ‘‘یہ الفاظ ادا ہوتے ہی آناًفاناًایک طوفان برپا ہو گیا ۔یہ فقرہ ایسی گونج بنا کہ جس نے بھارت کے جمہوری لبادے کو تار تار کر دیا اور اسکے بعد سارے ذرائع ابلاغ میں بھارت کے اندر جاری انسانی حقوق کی پامالیوں، اقلیتوں پر ڈھائےجانیوالے مظالم اور کشمیر کے اندر جاری بربریت کو منظر عام پر لایا جانے لگا ،ہندوستان کے اندر نام نہاد صحافتی آزادی پر سوال ہی نہیں اُٹھائےگئے بلکہ صحافت کا گلا گھونٹنے کی باز گشت گونجنے لگی۔ اس پر جلتی پہ تیل کا کام بھارتی میڈیا کی مذکورہ نارویجن صحافی سے متعلق اپنائی جانیوالی بدزبانی اور بے جا الزام تراشی نے کیا۔ جہاں نارویجن صحافی کا مودی سے کیا سوال وائرل ہوا وہیں بھارتی میڈیا اور ہندو انتہا پسندوں کا طوفان بد تمیزی بھی سوشل میڈیا کی زینت بن کر بھارت کے جعلی مہذب پن کو توڑگیااوریورپی عوام ہندوستان کے ایک نئے چہرے سے روشناس ہوگئے ۔ اس سارے معاملے میں سب سے بڑا ہاتھ تو بھارت کی رعونت کا ہے۔ بھارت امریکہ چین کشمکش میں اپنے آپکو یورپ اور مغرب کیلئے ناگزیر تصور ہونے کےزعم کا شکار چلا آ رہا ہے اور مغربی رائے عامہ کو بلیک میل کرتا رہا ہے۔ اس میں جہاں ہندوستان کے اندر جاری بے لگام ہندتوا کی من مانیاں شامل ہیں تو وہیں ہندوستانی سفارتکاری کی بھی نااہلی کا بڑا دخل ہے جو اپنے دورے پہ آنیوالے حکمرانوں کو میزبان ملک کے سیاسی و صحافتی کلچر بتانے میں ناکام ہوتے ہیں۔

دیکھا جائے تو مودی کے اس بڑے تاریخی دورےکی ناکامی میں جہاں بھارتی غلطیوں کا حصہ ہے وہیں پر ہمیں اسکا کریڈٹ ناروے میں پاکستان کی سفارتکاری کو بھی دینا چاہیے۔جسکے ذریعے ہندوستان کی زیادتیوں اور غیر مہذب رویوں کو مقامی سطح پر مسلسل اجاگر کیا جاتا رہتا ہے۔خاص کر پچھلے تین سال میں ناروے کے اندر پاکستان کی سفیر محترمہ سعدیہ الطاف قاضی کا کردار کلیدی ہے جنہوں نے ہر موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہندوستان کے اندر ہونی والی زیادتیوں اور کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو ہر سطح پر منظر پر لا کر مقامی نارویجن عوام اور صحافتی سطح پر آگاہی پھیلائی ۔حکومتی سطح پر دونوں ممالک میں کتنے ہی معاہدے ہوئے ہوں اور کتنے ہی شائستہ الفاظ کا تبادلہ کیا گیا ہو لیکن عوامی سطح پہ بھارتی وزیراعظم ناروے سے بڑی رسوائی سمیٹ کر لے گیا ہے۔ جس کو درست کرنے کیلئے شاید دہائیاں درکار ہوں۔

تازہ ترین