جیکب آباد میں پسند کی شادی پر گھر جلانے کے واقعے پر لڑکی اور لڑکے کا بیان سامنے آ گیا۔
لڑکے نے بیان میں کہا ہے کہ خدشہ ہے کہ ہمیں قتل کروا دیا جائے گا، اعلیٰ حکام فوری نوٹس لے کر ہمیں تحفظ فراہم کریں۔
لڑکی کا کہنا ہے کہ پسند کی شادی کی ہے کوئی جرم نہیں کیا، پسند کی شادی کی مذہب اور قانون اجازت دیتا ہے، سردار صدام برڑو اور سردار احمد چنہ نے پسند کی شادی کو تنازع بنا دیا ہے۔
پسند کی شادی کرنے والی لڑکی نے کہا ہے کہ دونوں سرداروں نے چار پانچ سو لوگوں کے ہمراہ 121 گھر جلائے، ان سرداروں کے نام دہشت گردی کے مقدمے میں شامل کیوں نہیں کیے گئے؟ ان سرداروں سے ہمیں اور ہمارے خاندان کو جانی و مالی خطرات ہیں۔
لڑکی کا مزید کہنا ہے کہ میں سندھ کی بیٹی ہوں، وزیرِ اعظم، وزیرِ اعلیٰ اور آئی جی سے اپیل کرتی ہوں کہ دونوں سرداروں کو دہشت گردی کے مقدمے میں شاملِ تفتیش کیا جائے۔
لڑکی نے یہ بھی کہا ہے کہ دونوں سردار خون ریزی اور جھگڑا پیدا کر سکتے ہیں جسے بعد میں روکنا مشکل ہو جائے گا۔