• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کی سفارتی تاریخ میں بعض تعلقات محض سیاسی اور معاشی مفادات تک محدود نہیں رہتے بلکہ گزرتے وقت کیساتھ ساتھ آزمائشوں، بدلتے عالمی حالات اور علاقائی چیلنجز کے باوجود یہ تعلقات ایک گہرے رشتے اور محبت کی علامت بن جاتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے موجودہ تعلقات بھی آج اسی نوعیت کے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات کی 75 ویں سالگرہ اس لازوال دوستی کی روشن علامت ہے جسے گزشتہ دنوں پورے پاکستان میں بڑی گرمجوشی سے منایا گیا۔ پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور اُن ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 1951 ءمیں عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا۔ بعد ازاں امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی رابطوں میں پاکستان نے پل کا کردار ادا کیا جو تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ اس فیصلے نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بنیاد رکھی اور وقت گزرنے کیساتھ یہ تعلقات محض سفارتی روابط تک محدود نہ رہے بلکہ ایک لازوال دوستی کی روشن علامت بن گئے۔

پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر اسلام آباد میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں صدر پاکستان آصف زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وفاقی کابینہ کے اراکین اور پاکستان میں چین کے سفیر ژیانگ ژیڈانگ نے شرکت کی۔ اِسی سلسلےمیں ایک تقریب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے کراچی کی تاریخی عمارت موہٹہ پیلس میں منعقد کی گئی جس میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو، کراچی میں چین کے قونصل جنرل یانگ یوڈونگ اور شہر کی معزز شخصیات نے شرکت کی۔ اس تقریب میں، میں بھی مدعو تھا۔بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے چینی رہنما مائوزے تنگ کے ساتھ مل کر پاک چین تاریخی تعلقات کی بنیاد رکھی اور وہ مائوزے تنگ سے ملاقات کرنیوالے آخری غیر ملکی رہنما تھے، اس دور میں قائم ہونیوالا یہ رشتہ آج ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہرا اور شہد سے زیادہ میٹھاجانا اور مانا جاتا ہے۔ اس موقع پر چین کے قونصل جنرل یانگ یوڈونگ نے ایک دل چھو جانے والی تقریر کی اور پاک چین دوستی کو لازوال قرار دیا۔چین کے قونصل جنرل یانگ یوڈونگ سے میرے دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں اور میں اکثر انہیں اپنے گھر دعوت پر مدعو کرتا ہوں۔ پاک چین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر میں نے انہیں اپنے گھر ایک عشایئے پر مدعو کیا۔ تقریب میں دیگر ممالک کے قونصل جنرلز،رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، عارف حبیب اور شہر کی معزز شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر میں نے اپنی تقریر میں پاک چین تعلقات میں پاکستان میں چین کے سفیر ژیانگ ژیڈانگ اور قونصل جنرل یانگ یوڈونگ کے مثالی کردار کو سراہا جنہوں نے پاک بھارت جنگ ’’معرکہ حق‘‘ کے دوران راتوں کو جاگ کر پاکستان کی ہر ممکنہ دفاعی اور سفارتی مدد کی، آج دنیا کا ہر ملک چین سے دوستی کا خواہاں ہے کیونکہ چین دنیا میں ایک معاشی اور عالمی طاقت بن کر ابھرا ہے لیکن پاکستان نے چین کا اس وقت ساتھ دیاجب بہت سے دوست ممالک ایسا کرنے سے گریزاں تھے۔ اس موقع پر پاک چین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا۔

پاک چین لازوال دوستی کے حوالے سے آج میں ایک واقعہ شیئر کرنا چاہوں گا جو مجھ سے سابق وزیر دفاع آفتاب شعبان میرانی (مرحوم) نے شیئر کیا تھا۔ 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارت میں قید 90 ہزار پاکستانی جنگی قیدیوں کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اور شیخ مجیب الرحمن کے درمیان ایک خوفناک منصوبے پر اتفاق ہوا جسکے تحت 1972 ءمیں بھارت نے بنگلہ دیش کوبطور ملک تسلیم کرانے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی۔ اس قرارداد کو سلامتی کونسل کے بیشتر ارکان کی حمایت حاصل تھی۔ اس بات کا قوی امکان تھا کہ یہ قرارداد منظور ہوجاتی تو بھارت ان 90ہزار پاکستانی فوجیوں کو بنگلہ دیش کے حوالے کردیتا اوربنگلہ دیش ایک ملک ہونے کے ناطے پاکستان کے سینئر فوجی افسران کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ چلاکر انہیں سخت سزائیں دیتا۔بھارت ایسا کرکے دنیا بھر میں پاکستانی افواج کی تذلیل کرنا چاہتا تھا۔ پاکستان کیلئے یہ انتہائی مشکل صورتحال تھی۔ ایسے میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ایک رات خفیہ مشن پر چین روانہ ہوئے اور چینی حکومت کو بھارت کے ناپاک عزائم سے آگاہ کیا۔ چین اس وقت اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا نیا رکن بنا تھا۔ چائنا کمیونسٹ پارٹی کے چیئرمین مائوزے تنگ نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو یقین دلایا کہ ان مشکل حالات میں چین، پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔اس طرح جب بھارتی ایما پر بنگلہ دیش کو تسلیم کرانے کی قرارداد سیکورٹی کونسل میں پیش ہوئی تو چین نے قرارداد کو ویٹو کرکے مذموم بھارتی سازش کو ناکام بنادیا۔ بعد ازاں شملہ معاہدے کے تحت بغیر کسی شرائط کے ان پاکستانی فوجیوں کی وطن واپسی ممکن ہوئی اور پاکستان نے بعد میں اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر بنگلہ دیش کو تسلیم کیا۔

آج اس واقعہ کو بیان کرنےسے یہ بتانا مقصود تھا کہ جس طرح چین نے 1971ء میں مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، اُسی طرح مئی 2025ءمیں جب بھارت نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے پاکستان پر جنگ مسلط کی تو چین نے پاک بھارت جنگ ’’معرکہ حق‘‘ میں پاکستان کی دل کھول کر مدد کرکے بھارتی خواب چکنا چور کردیے۔یہی وجہ ہے کہ آج بھارتی مبصرین یہ کہتے سنائی دیتےہیں کہ بھارت نے یہ جنگ پاکستان کے ساتھ ساتھ چین سے بھی لڑی۔پاک چین دوستی کی 75 ویں سالگرہ پر ہر پاکستانی کو فخر ہے اور یہ دوستی اعتماد، اخلاص اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال ہے جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی جارہی ہے۔

تازہ ترین