کوئی سواد نہیں آہ زندگی کے لئے
ترستی رہتی ہے خلقِ خدا خوشی کے لئے
اذیّتوں میں بھی آسودگی کرے محسوس
یہ خوش دلی ہے بڑی بات آدمی کے لئے
ہمیشہ کیسے رہے نعمتِ نشاط نصیب
عطا ہوئی ہے یہ دولت کبھی کبھی کے لئے
ہر ایک شے نہیں ہوتی ہر ایک کو حاصل
کوئی کسی کے لئے ہے، کوئی کسی کے لئے
مکان بند ہے، ظلمت ہو کس طرح کافور
دریچے کھول دیئے جائیں روشنی کے لئے
اُٹھو اُٹھو کہ ضروری ہے ظالموں کے خلاف
جہاد، عافیت و امن و آشتی کے لئے
ہمیں لبوں پہ تبسم سجائے رکھنا ہے
یہ ساعتیں ہیں بھلا آنکھ میں نمی کے لئے
شعورؔ! عید اکارت کرو نہ فکروں میں
ملا ہے آج کا ہر لمحہ عید ہی کے لئے