امریکا نے اقوامِ متحدہ کی فلسطینی علاقوں سے متعلق ماہر فرانسسکا البانیز کو دوبارہ پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے، یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی عدالت نے پہلے دیا گیا عارضی ریلیف معطل کر دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکی محکمۂ خزانہ کی ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ فرانسسکا البانیز کو دوبارہ خصوصی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ان پر اسرائیل مخالف سرگرمیوں اور عالمی عدالتِ انصاف کو اسرائیلی قیادت کے خلاف کارروائی پر اکسانے کا الزام عائد کیا ہے۔
واضح رہے کہ فرانسسکا البانیز نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف عالمی فوجداری عدالت میں وارنٹ جاری کرنے کی حمایت بھی کی تھی۔
مارکو روبیو نے گزشتہ سال کہا تھا کہ فرانسسکا البانیز اسرائیل کے خلاف ’متعصبانہ اور بدنیتی پر مبنی مہم‘ چلا رہی ہیں۔
امریکی پابندیوں کے تحت فرانسسکا البانیز کے امریکا میں اثاثے منجمد، امریکا میں داخلہ بند اور امریکی اداروں کے ساتھ لین دین محدود کردیا گیا ہے۔
اس سے قبل ایک امریکی جج نے پابندیاں عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے کہا تھا کہ فرانسسکا البانیز کی آراء محض ذاتی ہیں اور انہیں عالمی عدالت کے فیصلوں کا ذمے دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
واضح رہے کہ فرانسسکا البانیز غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیتی رہی ہیں، انسانی حقوق کے کئی عالمی ماہرین بھی اسی مؤقف کی حمایت کر چکے ہیں۔