• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غزہ: ’لاپتہ افراد کا قبرستان‘ جہاں آج بھی خاندان اپنے پیاروں کو تلاش رہے ہیں

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

غزہ کی پٹی کے شہر دیر البلاح میں قائم ’لاپتہ افراد کے قبرستان‘ میں سیکڑوں نامعلوم لاشیں دفن ہیں جہاں اپنے پیاروں کی تلاش میں خاندان روزانہ پہنچتے ہیں، اسرائیلی جنگ کے دوران لاپتہ ہونے والے فلسطینیوں کی شناخت نہ ہونے کے باعث یہ قبرستان انسانی المیے کی علامت بن چکا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 26 سالہ لینا العسی اپنے شوہر جہاد طافش کی قبر سمجھ کر ایک بے نام قبر پر پھول رکھتی اور پانی ڈالتی ہیں، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لینا کا شوہر اکتوبر 2023ء میں غزہ شہر کے علاقے شجاعیہ میں اسرائیلی بمباری کے دوران لاپتہ ہو گیا تھا۔

لینا نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے 2 بچوں کے ساتھ محفوظ مقام پر منتقل ہو گئیں جبکہ ان کے شوہر اپنے والدین کے ساتھ گھر میں موجود رہے، اس کے بعد ان سے کبھی رابطہ نہیں ہو سکا۔

اُنہوں نے بتایا کہ ریڈ کراس سمیت مختلف اداروں سے مدد مانگی گئی لیکن آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کے شوہر زندہ ہیں، گرفتار ہوئے یا شہید ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی لاشیں غزہ واپس بھیجی گئیں تاہم بیشتر لاشیں ناقابل شناخت حالت میں تھیں، خاندان کپڑوں، جسمانی نشانات اور ذاتی اشیاء کی مدد سے شناخت کی کوشش کرتے رہے۔

لینا نے بھی اسپتال میں کئی دن لاشوں کی شناخت کی کوشش کی مگر جب انہوں نے ایک لاش کو اپنے شوہر سے مشابہ قرار دیا تو معلوم ہوا کہ اسے پہلے ہی نامعلوم کے طور پر دفنا دیا گیا ہے۔

غزہ کی مذہبی امور کمیٹی کے مطابق دیر البلاح کا یہ قبرستان اکتوبر 2025ء میں قائم کیا گیا تھا جہاں اب تک تقریباً 1400 قبریں بنائی جاچکی ہیں، زیادہ تر لاشیں ملبے، سڑکوں اور عارضی قبروں سے نکالی گئیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ لاشوں کی خراب حالت اور غزہ میں ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولت نہ ہونے کے باعث شناخت کا عمل شدید متاثر ہے۔

ریڈ کراس کے مطابق نمونے محفوظ کیے جارہے ہیں تاکہ مستقبل میں شناخت ممکن ہو سکے۔

لینا العسی کا کہنا ہے کہ اِن کی صرف ایک خواہش ہے کہ ان کے شوہر کی قبر کو ایک نام مل جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ وہاں آ سکیں۔

خاص رپورٹ سے مزید