آپ نے اکثر کسی بزرگ کو دیکھا ہوگا، جن کے ہاتھ آرام کی حالت میں بھی کانپتے رہتے ہیں، چال میں عدم توازن ہوتا ہے، چہرے کے تاثرات کم اور بول چال سُست پڑ جاتی ہے۔ یہ کوئی عام بڑھاپے کی علامات نہیں، ایک سنگین اعصابی بیماری کی نشان دہی ہے، جسے طبّی زبان میں’’Parkinson's Disease‘‘ اور عام اردو میں’’رعشہ‘‘ کہتے ہیں۔
پھر مریض کی دیکھ بھال، علاج کے اخراجات اور جذباتی بوجھ، یہ سب مل کر ایک ایسا گمبھیر مسئلہ بن جاتے ہیں، جو گھر بھرکو متاثر کرتا ہے۔ آج دنیا بَھر میں لاکھوں لوگ اِس بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور پاکستان میں بھی صُورتِ حال خاصی تشویش ناک ہے۔
رعشہ، دماغ کا خاموش دشمن: پارکنسز ایک دائمی اعصابی بیماری ہے، جو دماغ کے اُس حصّے کو متاثر کرتی ہے، جو جسمانی حرکات کنٹرول کرتا ہے۔ یہ بیماری سب سےپہلے 1817ء میں ڈاکٹرجیمز پارکنسن نے دریافت کی تھی۔ اِس بیماری میں دماغ کےایک مخصوص علاقے ’’Substantia Nigra‘‘ کے خلیات آہستہ آہستہ مرنے لگتے ہیں۔ یہ خلیات ایک انتہائی اہم کیمیائی مادہ، ڈوپامین (Dopamine) بناتے ہیں۔
جب ڈوپامین کی مقدار کم ہوجاتی ہے، تو دماغ جسم کو صحیح حرکات کےاشارے بھیجنے میں ناکام ہوجاتا ہے اوراِس طرح رعشہ، سختی اورحرکت میں سُستی جیسی علامات ظاہرہوتی ہیں۔ پارکنسز کو الزائمر کے بعد دنیا کی دوسری سب سے عام اعصابی بیماری مانا جاتا ہے اور یہ وہ اعصابی بیماری ہے، جو بہت تیزی سے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔
علامات، کب اور کیسے پہچانیں؟: پارکنسز کی علامات دو حصّوں میں تقسیم کی جاسکتی ہیں۔
مرکزی (حرکتی) علامات: رعشہ (Tremor): آرام کی حالت میں ہاتھ یا پاؤں کا کانپنا، خاص طور پر ہاتھوں کی انگلیاں ایسےہلتی ہیں، جیسے گولیاں گِنی جارہی ہوں۔ حرکت کی سُستی (Bradykinesia): روزمرّہ کے کام جیسے بٹن لگانا، لکھنا، یا اُٹھنا بیٹھنا مشکل ہوجانا۔ پٹّھوں کی سختی (Rigidity): جوڑوں اور پٹّھوں میں اکڑن اور درد۔ توازن میں خرابی (Postural Instability): چلتے ہوئے گرنے کا خطرہ بڑھنا۔
غیرحرکتی علامات: نیند میں خرابی، ڈیپریشن اور اضطراب، یادداشت میں کم زوری، ذائقے اور سونگھنے کی حِس کا کم ہونا، قبض، پیشاب کے مسائل اور چہرے پر تاثرات کا غائب ہو جانا، یہ تمام غیر حرکتی علامات اکثر مرکزی علامات سے برسوں پہلے ظاہر ہو سکتی ہیں۔
وجوہ اور خطرے کے عوامل: پارکنسز کی بیماری کی کوئی ایک وجہ نہیں، یہ کئی عوامل کا مجموعہ ہے۔ بڑھاپا سب سے بڑا خطرہ: 60سال سے زیادہ عُمر میں خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ 80سال کی عُمر کے بعد فی ایک لاکھ میں2087افراد اِس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ جینیاتی عوامل: پارکنسز کے تقریباً 10 سے 15 فی صد کیسز خاندانی ہوتے ہیں۔
پاکستان جیسے معاشروں میں جہاں قریبی رشتے داروں میں شادیاں عام ہیں، یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ ماحولیاتی زہر: کیڑے مار ادویہ، جیسے Paraquat اور Rotenone، صنعتی کیمیکل اور فضائی آلودگی، یہ تمام پارکنسز کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ پاکستان میں ان عوامل کی خاص اہمیت ہے۔
جنس: مرد، خواتین کی نسبت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق مَردوں میں یہ بیماری 1.64 گُنا زیادہ پائی جاتی ہے۔ سابقہ بیماریاں: ڈیپریشن، سر کی چوٹ، ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کے مریضوں میں پارکنسز کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔
تشخیص اور علاج : پارکنسز کا کوئی حتمی علاج ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا، لیکن علامات کنٹرول کرنے کے کئی مؤثر طریقے موجود ہیں۔ ادویہ: Levodopa/Carbidopa،Dopamine Agonists اور MAO-B Inhibitors جیسی ادویہ ڈوپامین کی کمی پوری یا اس کا اثر بڑھاتی ہیں۔ یہ ادویہ علامات کو سالوں تک قابو میں رکھ سکتی ہیں۔ ڈی بی ایس: جن مریضوں پر ادویہ اثر نہیں کرتیں، اُن کے لیے دماغ میں ایک چھوٹا الیکٹروڈ لگایا جاتا ہے، جو برقی محرّکات سے رعشے اور سختی کو کم کرتا ہے۔
فزیکل تھراپی: باقاعدہ ورزش، خاص طور پر تیز قدمی، تیراکی اور Tai Chi جیسی ورزشیں، پارکنسز کی بڑھوتری کو سُست کر سکتی ہیں اور مریض کی زندگی کا معیار بہتر بناتی ہیں۔ اسپیچ تھراپی: بول چال متاثر ہونے کی صُورت میں اسپیچ تھراپسٹ سے مدد لی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں چیلنجز : پاکستان میں پارکنسز کے مریضوں کو کئی سنگین مسائل درپیش ہیں، جیسے، آگاہی کا فقدان: اکثر خاندان رعشے کو بڑھتی عُمر کا قدرتی حصّہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں اور تشخیص میں برسوں کی تاخیر ہو جاتی ہے۔ ماہر ڈاکٹرز کی کمی: مُلک میں نیورولوجسٹ اور موومنٹ ڈس آرڈر کے ماہرین کی تعداد بے حد کم ہے۔
چھوٹے شہروں اور دیہات میں تو مریض بنیادی تشخیص سے بھی محروم رہتے ہیں۔ علاج کے اخراجات: Levodopa جیسی بنیادی دوا بھی طویل عرصے تک استعمال کرنا غریب خاندانوں کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ تحقیق کا فقدان: پاکستان بائیو میڈیکل جرنل کی2024 ء کی ایک رپورٹ کے مطابق1965 ء سے 2023 ء تک پاکستان میں پارکنسز پر صرف سات (7) مستند مطالعے کیے گئے اور یہ تعداد ایک ایسے مُلک کی ہے، جہاں اس بیماری کے ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ مریض موجود ہیں۔
احتیاط ہی بچاؤ کا راستہ: اگرچہ پارکنسز کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، لیکن کچھ اقدامات خطرہ کم کر سکتے ہیں۔ باقاعدہ جسمانی ورزش: تحقیق سے ثابت ہے کہ سرگرم طرزِ زندگی پارکنسز کا خطرہ کم کرتا ہے۔ کیڑے مار ادویہ سے بچاؤ: زراعت سے وابستہ افراد حفاظتی لباس پہنیں۔
فضائی آلودگی سے بچاؤ: صنعتی دھویں اور آلودہ ماحول سے دُور رہیں۔ سر کی چوٹوں سے بچیں: کھیل کود اور گاڑی چلاتے وقت حفاظتی سامان استعمال کریں۔ چیک اپ: 60سال کی عُمر کے بعد باقاعدہ نیورولوجیکل چیک اَپ، ابتدائی تشخیص زندگی بدل سکتی ہے۔
آگاہی: اُمید کا پیغام: پارکنسز ایک ایسی بیماری ہے، جو نہ صرف جسم بلکہ رُوح کو بھی آہستہ آہستہ پابند کر لیتی ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اِس بیماری میں مبتلا لاکھوں افراد درست علاج، خاندان کی محبّت اور پختہ ارادے سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔
پاکستان میں ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر اِس بیماری سے متعلق آگاہی پھیلائیں، قریبی بزرگوں میں علامات ظاہر ہوتے ہی فوری تشخیص کروائیں اور حکومت سے مطالبہ کریں کہ نیورولوجیکل بیماریوں کے لیے الگ قومی پالیسی ترتیب دی جائے۔ کیوں کہ وہ ہاتھ جو آج کانپ رہا ہے، اس نے کل ہمارے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ اب ان کا بوجھ اُٹھانا ہمارا فرض ہے۔
عالمی اعداد و شمار: ایک تشویش ناک تصویر
رسالہ BMJ میں مارچ 2025ء میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے انکشاف کیا کہ2050 ء تک پارکنسز کے مریضوں کی تعداد25.2 ملین تک پہنچ جائے گی، جو 2021 ء کے مقابلے میں112 فی صد اضافہ ہوگا۔ اِس اضافے کی سب سے بڑی وجہ عالمی سطح پر آبادی کا بڑھاپے کی طرف بڑھنا ہے۔
پاکستان میں صُورتِ حال
پاکستان میں پارکنسز سے متعلق تحقیق ابھی بہت محدود ہے، لیکن جو اعداد و شمار دست یاب ہیں، وہ ہمیں چونکا دیتے ہیں۔
پاکستان پارکنسز سوسائٹی کے مطابق پاکستان میں تقریباً ساڑھے چار لاکھ افراد اِس بیماری میں مبتلا ہیں۔ خیبر پختون خوا میں کیے گئے ایک گھر گھر سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ 65 سال سے زیادہ عُمر کے افراد میں پارکنسز کی شرح 1.28فی صد ہے، جو کہ امریکا اور یورپ جیسی ترقّی یافتہ آبادیوں کے برابر ہے۔
پاکستان میں پارکنسز کے مریضوں میں ایک تشویش ناک بات یہ بھی سامنے آئی کہ کیڑے مار ادویہ کی تیاری اور زراعت کے شعبوں سے وابستہ افراد میں یہ بیماری نمایاں طور پر زیادہ پائی گئی اور ایک کثیر تعداد کے زراعت سے منسلک ہونے کے ضمن میں یہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے۔
(مضمون نگار، معروف نیورولوجسٹ اور پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کے سینئر رُکن ہیں)