• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیتا روڈ، سونا بڈھی اور پھلجی میں لاکھوں درخت کاٹ دیے گئے

سیتا روڈ (نامہ نگار: صداقت کاظمی) محکمہ جنگلات دادو کی مبینہ سرپرستی اور غفلت کے باعث ضلع بھر میں ہریالی کا بے دریغ قتلِ عام جاری ہے، جس نے پورے خطے کو ایک ہولناک ماحولیاتی اور موسمیاتی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ سیتا روڈ، سونا بڈھی، پھلجی اور دادو کے مضافات میں ہزاروں ایکڑز پر پھیلی سرکاری اراضی پر قائم صدیوں پرانے جنگلات کو بے رحمی سے اجاڑ دیا گیا ہے، جہاں راتوں رات لاکھوں قیمتی درخت کاٹ کر غائب کر دیے گئے۔ ذرائع کے مطابق، اس منظم ماحولیاتی جرم کے پیچھے مبینہ طور پر علاقے کے بااثر افراد اور لکڑی مافیا کا ہاتھ ہے، جنہوں نے محکمہ جنگلات کے چند کالی بھیڑوں جیسے افسران کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ بااثر قابضین نے جنگلات کی ہزاروں ایکڑ سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر قبضہ جما لیا ہے۔ ان عناصر نے زمینوں کو صاف کرنے کے لیے نہ صرف درختوں کو کاٹا بلکہ قیمتی لکڑی کو بڑے پیمانے پر اسمگل کر کے بھاری منافع کمایا اور اب ان جنگلاتی زمینوں کو زبردستی زرعی اراضی میں تبدیل کر کے وہاں کاشتکاری شروع کر دی گئی ہے۔ سماجی رہنماؤں کے مطابق، دادو اور اس کے گردونواح میں تقریباً 90 فیصد جنگلات کا صفایا کیا جا چکا ہے۔ جنگلات کے اس تیز رفتار خاتمے کے باعث پورے علاقے میں شدید موسمی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں؛ گرمی کی شدت (ہیٹ ویو) میں ریکارڈ اضافہ ہو گیا ہے، زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے اور بارشوں کا توازن بری طرح بگڑ چکا ہے، جس سے مقامی زراعت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ درختوں کی کٹائی کا سب سے ہولناک اثر یہاں کی جنگلی حیات پر پڑا ہے۔ ہزاروں پرندوں اور نایاب جانوروں کے مساکن (گھر) تباہ ہونے کی وجہ سے وہ یا تو مر چکے ہیں یا ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید