کراچی (سید محمد عسکری اسٹاف رپورٹر) ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں سرکاری گاڑی کے غیر قانونی استعمال پر ڈائو انتظامیہ نے سخت کارروائی کرتے ہوئے دو ملازمین کو شوکاز نوٹس دے دیا ہے۔ یونیورسٹی زرائع کے مطابق موٹر اینڈ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹو آفیسر محمد عاصم خان نے یونیورسٹی کی گاڑی نمبر GS-4926 کو کئی برس تک غیر مجاز طور پر اپنے استعمال میں رکھا اور ماہانہ 300 لیٹر پیٹرول بھی لیتے رہے۔ یہ گاڑی سابق رجسٹرار زینت ایوب کے زیر استعمال تھی اور ریٹائر ہونے کے بعد انھوں نے اسے واپس کردیا تھا۔ دستاویز کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ فراز حسین نے 24 جنوری 2026 کو رجسٹرار کو تحریری شکایت ارسال کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ گاڑی یونیورسٹی کی اجازت کے بغیر ایک افسر کے قبضے اور استعمال میں ہے۔ شکایت میں مزید الزام لگایا گیا کہ گاڑی کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا اور اس پر کسی دوسری نجی گاڑی کی نمبر پلیٹ بھی لگائی گئی تھی۔ اسی طرح گریڈ 16 کے ایک اور ملازم کاشف بھی کئی برس سے غیرقانونی طور پر سرکاری گاڑی استمال کررہے تھے۔ سنڈیکٹ کے ایک رکن نے بتایا کہ یہ معاملہ یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے سامنے پیش کردیا گیا ہے جس کے بعد سنڈیکیٹ نے اس خلاف ورزی کی نوعیت اور سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فائنل شوکاز نوٹس اور مناسب سزا کے تعین کی ہدایت کی ۔ دستاویز میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اگر متعلقہ افسر کی جانب سے مزید کوئی جواب موصول نہ ہوا تو یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے سزا نافذ کی جا سکتی ہے۔