آئندہ مالی سال 27-2026ء کے بجٹ کے لیے چاروں صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگراموں کا مجموعی حجم 3138 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق پنجاب ترقیاتی پروگرام کے حجم کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہے، جہاں 1450 ارب روپے کا سالانہ ترقیاتی پروگرام تجویز کیا گیا ہے۔
اس میں 1306 ارب روپے مقامی وسائل سے جبکہ 144 ارب روپے غیر ملکی امداد کی مد میں فراہم کیے جانے کی سفارش کی گئی ہے۔
دوسرے نمبر پر سندھ ہے، جس کے لیے 816 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام کی تجویز دی گئی ہے۔
سندھ کے ترقیاتی بجٹ میں 520 ارب روپے مقامی وسائل سے شامل ہوں گے، جبکہ غیر ملکی امداد کا حجم 296 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق خیبر پختون خوا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 564 ارب روپے تک بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے، اس میں 377 ارب روپے مقامی وسائل اور 187 ارب روپے غیر ملکی امداد سے فراہم کیے جائیں گے۔
اسی طرح بلوچستان کے لیے 308 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام تجویز کیا گیا ہے، جس میں 275 ارب روپے مقامی وسائل جبکہ 33 ارب روپے غیر ملکی امداد مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق چاروں صوبوں کے ترقیاتی پروگراموں میں مقامی وسائل کا مجموعی حصہ 2478 ارب روپے جبکہ غیر ملکی امداد کا مجموعی حجم 660 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔
مالی سال 27-2026ء میں ترقیاتی اخراجات میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔