نئی سیٹلائٹ تصاویر نے جنوبی غزہ میں ہونے والی وسیع پیمانے پر تباہی کو بے نقاب کر دیا، پورے کے پورے محلے، قبرستان، تعلیمی ادارے اور زرعی زمینیں نقشے سے مٹتی دکھائی دے رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر میں جنوبی غزہ کے شہر خان یونس اور رفع کے وسیع علاقے مکمل طور پر تباہ نظر آ رہے ہیں، جبکہ ہزاروں بے گھر فلسطینی ساحلی پٹی اور عارضی خیمہ بستیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی صحافی محمد قشطہ نے بتایا کہ اپنی بہنوں کی قبروں پر فاتحہ پڑھنے جانا چاہتا ہوں، لیکن جس قبرستان میں انہیں دفن کیا گیا تھا وہ اب موجود ہی نہیں رہا۔
ان کے مطابق شیخ محمد قبرستان کو اسرائیلی فوجی چوکی میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور قبروں کی جگہ اب فوجی گاڑیاں اور تنصیبات موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ میں زندہ لوگ ہی نہیں، مردے بھی محفوظ نہیں رہے۔
سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق رفح کے متعدد رہائشی علاقے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، سویڈش ولیج نامی ساحلی بستی، جہاں تقریباً 1300 افراد آباد تھے، اب ایک فوجی زون میں تبدیل ہو چکی ہے۔
اسی طرح خان یونس کے مشرقی علاقوں بنی سہیلہ، عبسان اور الزنہ میں بھی وسیع پیمانے پر تباہی دیکھی گئی ہے، جہاں پہلے ہزاروں خاندان آباد تھے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ میں 97 فیصد سے زائد اسکول یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا شدید نقصان کا شکار ہیں۔
معروف جامعات بھی تباہی کا شکار ہوئی ہیں، جس سے ہزاروں طلبہ کا تعلیمی مستقبل متاثر ہوا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اداروں کے مطابق غزہ کی 95 فیصد زرعی زمینیں ناقابلِ استعمال ہو چکی ہیں، رفح اور خان یونس کے وہ علاقے جو کبھی غزہ کی غذائی ضروریات پوری کرتے تھے، اب ملبے اور فوجی سرگرمیوں کی زد میں ہیں۔
فلسطینی صحافی کے مطابق متعدد خاندان روزانہ کھانے کی تلاش میں نکلتے ہیں لیکن خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں، جبکہ قحط کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نتین یاہو نے غزہ میں اسرائیلی کنٹرول مزید بڑھانے کی ہدایت دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج اس وقت غزہ کے تقریباً 60 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتی ہے اور اس دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کی کوشش جاری ہے۔
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر عمارتوں اور سڑکوں کی تباہی تو دکھا سکتی ہیں، لیکن ان خاندانوں کے درد کو نہیں دکھا سکتیں جو اپنے گھر، عزیزوں اور یادوں سے محروم ہو چکے ہیں۔