• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

28 مئی 1998 پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا یادگار دن ہے جسے پوری قوم ’’یوم تکبیر‘‘ کے نام سے مناتی ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان نے چاغی کے پہاڑوں میں کامیاب ایٹمی دھماکے کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، آزادی اور قومی سلامتی کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ اس تاریخی کامیابی نے پاکستان کو دنیا کی ساتویں اور مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بنادیا۔

پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے کئی دن بعد جب پاکستان کی جانب سے کوئی ایٹمی دھماکہ نہ کیا گیا تو بھارتی وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی نے پاکستان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستانیوں کو چاہئے کہ اب وہ شرم سے اپنا سر جھکاکر چلیں کیونکہ اُن کے ایٹمی صلاحیت ہونے کے دعوے جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔‘‘ ایسی صورتحال میں نواز شریف حکومت شدید دبائو کا شکار تھی، ایک طرف پاکستان کو ایٹمی دھماکے کے نتیجے میں عالمی پابندیوں، سفارتی تنہائی اور سنگین معاشی نتائج کے ممکنہ خطرات لاحق تھے تو دوسری طرف ایٹمی دھماکہ نہ کرنے کے بدلے میں امریکی صدر بل کلنٹن کی جانب سے اربوں ڈالر کی پیشکش کی جارہی تھی۔ ایسے میں وزیراعظم میاں نواز شریف کے ایٹمی دھماکہ کرنے کے جرات مندانہ فیصلے نے پاکستان کو دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بناکر بھارت کا غرور خاک میں ملادیا اور خطے میں اسٹرٹیجک توازن کو مستقل طور پر بدل دیا، پاکستان نے دنیا کو بتادیا کہ جب قوم ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کا مشن لے کر چلتی ہے تو پھر اس کے سامنے کوئی رکاوٹ معنی نہیں رکھتی۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد امریکی صدر بل کلنٹن سے کسی صحافی نے دریافت کیا کہ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی دھمکیوں کے باوجود کیا پاکستان کا ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ درست تھا؟ بل کلنٹن نے کہا کہ ’’اگر میں پاکستان کا سربراہ ہوتا تو میرا بھی یہی فیصلہ ہوتا۔‘‘

پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا سہرا تین شخصیات ذوالفقار علی بھٹو، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور میاں نواز شریف کو جاتا ہے جو قوم کیلئے ہیروز کا درجہ رکھتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور یہ عزم کیا کہ قوم گھاس کھالے گی مگر ایٹم بم ضرور بنائے گی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایٹمی پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور میاں نواز شریف نے تمام تر عالمی دبائو کے باوجود ایٹمی دھماکے کئے اور پاکستان کو ایٹمی ملک بناکر ملکی سلامتی کو یقینی بنادیا۔ ان قومی ہیروز میں ذوالفقار علی بھٹو اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان آج ہمارے درمیان نہیں۔ زندہ قومیں ہمیشہ اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہیں اور ان کے احسانات کو فراموش نہیں کرتیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے ان تینوں ہیروز کے ہاتھ چومتے مگر افسوس کہ ہمارا اپنے ہیروز کے احسانات چکانے کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں رہا۔ ایٹمی پروگرام کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو ہم نے پھانسی پر چڑھاکر ان کے احسانات کا بدلہ چکادیا، محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو مشرف دور میں رسوا کرکے ان کا احسان اتار دیا گیا اور وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں زبوں حالی کا شکار ہوکر دکھی حالت میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے میرے قریبی تعلقات تھے اور وہ اکثر ملاقات میں اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کا ذکر کیا کرتے تھے۔ ایٹمی دھماکہ کرنے والے میاں نواز شریف الحمد اللہ آج ہمارے درمیان ہیں مگر ان کے ساتھ بھی جو سلوک روا رکھا گیا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ ایٹمی دھماکے کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد سابق آمر پرویز مشرف نے پاکستان کو ایٹمی ملک بنانے والے منتخب وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر انہیں گرفتار کرلیا اور ہتھکڑی لگاکر کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا۔ بعد ازاں عمران خان دور حکومت میں جب وہ اڈیالہ جیل میں پابند سلاسل تھے اور ان کی اہلیہ کلثوم نواز لندن کے اسپتال میں زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھیں تو ان سے ٹیلیفون پر بات کروانے سے انکار کردیا گیا اور کلثوم نواز اپنے شوہر کی آواز سنے بغیر دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ اس طرح قوم کے اس ہیرو کے احسانات کا بدلہ بھی اس کی زندگی میں ہی چکادیا گیا۔

یوم تکبیر کے موقع پر سوشل میڈیا پر عمران خان کا ماضی میں ایک غیر ملکی ٹی وی چینل کو دیا گیا بیان وائرل ہے جس سے یہ ظاہر ہے کہ وہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں۔ اپنے انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان کا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام محض ایک دفاعی جوہری ڈیٹرنس ہے، اگر مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی تصفیہ ہوجائے تو جوہری ڈیٹرنس کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔‘‘ اس سے قبل بھی عمران خان اپنے دور حکومت میں امریکی دورے کے موقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ’’پاکستان اور بھارت دونوں ہی کو جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہو جانا چاہئے۔‘‘ عمران خان کے ان بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی دبائو یا خاطر خواہ مالی امداد کے بدلے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ کیا جاسکتا ہے۔ یومِ تکبیر کے موقع پر ہمیں نہ صرف اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے بلکہ ان عظیم قومی ہیروز کو بھی خراج تحسین پیش کرنا چاہئے جن کی محنت، بصیرت اور جرات مندانہ فیصلوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں بلکہ ایک خواب کی تعبیر ہے جسے ہماری قیادت نے عالمی دبائو کے باوجود جرات مندی اور حکمت کے ساتھ حقیقت میں بدلا۔ دنیا میں ایران کی مثال ہمارے سامنے ہے جس پر ممکنہ ایٹمی صلاحیت کے حصول کے باعث امریکہ اور اسرائیل نے جنگ مسلط کر کےاسے تباہی سے دوچار کردیا۔ پاکستان بھی اپنے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے خطرات سے محفوظ نہیں اور اسرائیل و بھارت جیسی دشمن طاقتیں ہمارے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں مگر ہمیں یقین ہے کہ ملکی سلامتی کے ادارے دشمن طاقتوں کو ان کے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ یومِ تکبیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے ایک عظیم قومی ہدف حاصل کرلیا ہے اور اب ہمیں اسے محفوظ رکھنے کیلئے ہمیشہ چوکنا رہنا ہوگا۔

تازہ ترین