• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رنویر سنگھ کا فلم ورکرز تنظیم کیخلاف مقدمہ، تنازع مزید شدت اختیار کر گیا

رنویر سنگھ---فائل فوٹو
رنویر سنگھ---فائل فوٹو 

بھارتی اداکار رنویر سنگھ اور فلمی کارکنوں کی تنظیم کے درمیان تنازع اب قانونی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، رنویر سنگھ نے تنظیم کو قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق تنازع کی بنیاد فلم ڈان 3 سے رنویر سنگھ کی مبینہ علیحدگی ہے۔

تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ فلم کے ہدایت کار فرحان اختر اور پروڈیوسر رتیش سدھوانی نے شکایت کی تھی کہ منصوبے کے ابتدائی مراحل پر تقریباً 45 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

تنظیم نے رنویر سنگھ کے اس فیصلے کو پروڈیوسرز کے لیے مالی نقصان کا سبب قرار دیتے ہوئے اپنے تمام وابستہ اراکین کو ہدایت دی تھی کہ وہ اداکار کے کسی بھی منصوبے میں کام نہ کریں۔

تنظیم کے مشیر اشوک پنڈت نے الزام عائد کیا تھا کہ رنویر سنگھ سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی جواب نہیں ملا، بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ اس اقدام کو ’پابندی‘ قرار دینا درست نہیں۔

دوسری جانب رنویر سنگھ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اداکار فلمی برادری اور ڈان فرنچائز کا بے حد احترام کرتے ہیں اور وہ پورے معاملے پر وقار اور پیشہ ورانہ انداز میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

ادھر اس اقدام کی قانونی حیثیت بھی سوالات کی زد میں آ گئی ہے، 2017ء میں مسابقتی کمیشن نے ایک فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ایسی تنظیمیں پروڈیوسرز پر مخصوص اراکین کے ساتھ کام کرنے کی پابندی عائد نہیں کر سکتیں۔

معروف پروڈیوسر ٹی پی اگروال بھی تنظیم کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کر چکے ہیں جبکہ تنظیم نے آج ایک اور پریس کانفرنس طلب کر رکھی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تنازع فی الحال ختم ہونے کے بجائے مزید طول پکڑ سکتا ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید