برطانیہ کی ویسٹ یارکشائر پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ قومی نگراں ادارے کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سیکڑوں جرائم کے مقدمات بغیر مکمل تفتیش کے بند کیے جا رہے ہیں، جبکہ متعدد سنگین کیسز مہینوں تک زیر التوا پڑے رہے۔
رپورٹ کے مطابق 900 سے زائد جرائم کے مقدمات تفتیشی ٹیموں کو سونپے ہی نہیں گئے، جس کے باعث متاثرین کو انصاف کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید برآں زیادتی کے 412 مقدمات بھی جائزے کے انتظار میں پائے گئے، جن میں بعض کیسز ایک سال سے زائد عرصے سے زیر التوا تھے۔
انسپکٹرز نے خبردار کیا کہ ایسے مقدمات بھی بند کیے گئے جن میں مزید تفتیش کے واضح امکانات موجود تھے۔ رپورٹ میں انتظامی کمزوریوں، ناقص نگرانی اور بعض معاملات میں کمزور قیادت پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
کانسٹیبلری کی چیف انسپکٹر مشل اسکیئر نے کہا کہ اگرچہ فورس نے بعض شعبوں میں بہتری دکھائی ہے، تاہم جرائم کی تفتیش، بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے اور خطرے سے دوچار بچوں اور بالغ افراد کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ مسائل اب بھی موجود ہیں۔
دوسری جانب ویسٹ یارکشائر پولیس نے رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فورس اپنی خدمات میں مزید بہتری کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق رپورٹ کے انکشافات نے پولیس نظام کی کارکردگی اور عوامی اعتماد کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔