• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سر پر بال اُگانے کے جدید ذرائع کے حلال ہونے کا حکم

فائل فوٹو
فائل فوٹو

تفہیم المسائل

سوال: آج کل گنجے پن کا علاج بذریعہ Platelet Rich Plasma کیا جارہا ہے، جس میں جسم سے خون لے کر پلازمہ الگ کیا جاتا ہے اور سرنج کے ذریعے بالوں کی جڑوں میں پہنچایا جاتا ہے، جس سے گنجا پن دور ہوجاتا ہے اور بال اُگ جاتے ہیں، کیا یہ طریقہ ٔ علاج جائز ہے؟ ( ایک سائل ، کراچی)

جواب: آپ کے سوال میں قابلِ توجہ اُمور درج ذیل ہیں: (۱) انسانی خون ، انسانی اعضاء یا حرام چیزوں سے علاج (۲) ضرورت کے تحت حرام چیزوں سے علاج کی رخصت (۳) سوال میں مذکور بالوں کے اُگانے کا طریقہ۔

ضرورتِ شدیدہ کے بغیر کسی حرام شے سے علاج کرنا جائز نہیں ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ:’’ بے شک، اللہ تعالیٰ نے بیماری اور دوا دونوں کو نازل کیا اور ہر بیماری کے لیے دوا رکھی ہے، لہٰذا ان دواؤں سے علاج کرو ، لیکن حرام اشیاء سے علاج نہ کرو،( سُنن ابوداؤد: 3874)‘‘۔

علّامہ فخرالدین عثمان بن علی زیلعی حنفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ حرام اشیاء کو بطور دوا استعمال کرنا جائز ہے، جیسے شراب و پیشاب وغیرہ، جبکہ کسی مسلمان طبیب نے خبر دی ہو کہ اسی میں شفا ہے اور علاج کے لیے اس کے متبادل کوئی مباح چیز نہ ہو اور ضرورت کی وجہ سے حرمت کا حکم مرتفع ہوجاتا ہے تویہ حرام سے علاج کرنا نہیں ہوگا، ( تبیین الحقائق ، جلد6،ص:33)‘‘۔

مفتی نظام الدین رضوی لکھتے ہیں: ’’ مریض کی جان بچانے اوراعضا ء کو بے کار ہونے سے بچانے کے لیے ، جمالِ مقصود کے تحفظ، حلقۂ چشم کی حفاظت یاکسی عضو کی حفاظت کے لیے(حرام چیز سے علاج جائز ہے) بشرطیکہ اور جائز ذریعہ سے اس کا تحفظ نہ ہوسکے، (جدید مسائل پرعلماء کی آراء اور فیصلے، جلد1،ص:353، مطبوعہ: ہند)‘‘۔

شعبۂ طب نے کافی ترقی کرلی ہے اور آدمی کے اپنے بالوں کو طبی عمل سے سر پر اُگایا جاتا ہے، ہمارے نزدیک یہ طریقِ علاج جائز ہے اور بہتر ہے، جبکہ مذکورہ طریقۂ علاج میں خون کو کیمیائی عمل کے بعد اس کے رقیق مادے (پلازما)کو استعمال کیا جائے۔ جان بچانے کے لیے خون اپنی اصل حالت میں مریض کے جسم میں منتقل کیاجاتا ہے، اُس کے جواز کا حکم ہے، اسی طرح جمال مقصود کے تحفظ کے لیے اس کا استعمال جائز قرار دیاجائے گا۔

سر پر بال چہرے کی وجاہت اور جمالِ کامل کا سبب بنتے ہیں، شمس الائمہ علّامہ محمد بن احمد سرخسی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ اسی طرح سر کے بالوں میں کامل جمال ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ جس کے سر پر پیدائشی بال نہ ہوں، وہ اپنے سر کو چھپانے میں تکلف سے کام لیتا ہے اور کوئی شک نہیں کہ سر کے بالوں میں کامل جمال ہے اور کچھ منفعت بھی ہے، تو جو اسےجمال کی وجہ سے منفعت حاصل ہے، وہ منفعت کی صورتوں میں بڑی صورت ہے ،( المبسوط، جلد26، ص:72)‘‘۔

علّامہ برہان الدین ابوالحسن علی بن ابو بکر فرغانی لکھتے ہیں: ’’ اسی طرح سر کے بال میں بھی جمال ہے، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ جس کے سر پر بال نہ ہوں، وہ سرچھپانے میں تکلف سے کام لیتا ہے، برخلاف سینے اور پنڈلی کے بالوں کے کیونکہ ان سے جمال متعلق نہیں ہوتا، ( ھدایہ، جلد4، ص:463)‘‘۔ یہی سبب ہے کہ فقہائے کرام نے کسی کے سر کے بال جبراً مونڈنے والے پر سال بھر بال نہ اُگنے کی صورت میں دیت رکھی ہے۔

علامہ فخرالدین عثمان بن علی زیلعی حنفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ ڈاڑھی اور سر کے بالوں میں دِیت لازم ہوگی جبکہ ان کو (زبردستی) حلق کردیا ہو اور (سال بھر دوبارہ) نہ اُگیں، کیونکہ اس نے جمال کو مکمل طورپر ختم کردیا ،( تبیین الحقائق، جلد6،ص: 130)‘‘۔

صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی ؒ لکھتے ہیں:ـ ’’اگر کوئی کسی کا سر بالجبر مونڈ دے، تو ایک سال تک انتظار کیا جائے گا، اگر ایک سال میں سرپر بال اُگ آئے، تو حالق (مونڈنے والے) پر کچھ تاوان نہیں، ورنہ پوری دیت واجب ہوگی، اس میں مردوعورت، صغیر وکبیر سب کا حکم یکساں ہے، ( بہارِ شریعت، جلد3،ص: 832)‘‘۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سر پر بال اُگانے کے لیے مذکورہ عمل یعنی Platelet Rich Plasma جائز ہے ۔(واللہ اعلم بالصواب)

اقراء سے مزید