• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: کیا اسلام میں گھر کے کام کرنا عورت کا کام ہے؟ اگر وہ نہ کرے تو کیا وہ گناہ گار ہوگی؟ اور کیا وہ اس حوالے سےجواب دہ ہے؟ قرآن اور حدیث کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں؟

جواب: ایک مضبوط اور بہتر خاندانی نظام کی تشکیل و ترتیب اور اسے باہمی اعتماد کے ساتھ چلانے کے لیے شریعتِ مطہرہ نے گھر اور خاندان سے متعلق اندرونی اور بیرونی امور کی تقسیم کردی ہے، خانگی اور گھریلو معاملات کی ذمہ داری اور دیکھ بھال عورت کے حوالے کی اور بیرونی معاملات کی ذمہ داری مرد کو سونپی۔

نبی کریم ﷺ نے اپنی لختِ جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے شوہر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے درمیان خانگی و معاشی امور کی تقسیم فرما ئی تھی، اندرونی معاملات مثلاً: آٹا پیسنا، کھانا پکانا، گھر کی صفائی ستھرائی وغیرہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور خارجی معاملات مثلاً معاش وغیرہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذمہ لگائے۔

صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت سیّدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ایک مرتبہ معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کے پاس کچھ غلام آئے ہیں، تو آپ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں درخواست پیش کرنے کی غرض سے آئیں کہ چکی چلاچلا کر ہاتھوں میں چھالے پڑگئے ہیں، (مقصد یہ تھا کہ کوئی غلام، خادم مل جائے تو ان امور کی انجام دہی میں سہولت ہوجائے،) لیکن رسول اللہ ﷺ سے ملاقات نہیں ہوئی تو آپؓ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو آنے کی غرض بیان کرکے واپس ہوگئیں، (رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت سیّدہ رضی اللہ عنہا کی آمد اور غرض کے متعلق بتایا۔ )

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، اس حال میں کہ ہم سونے کے لیے بستر پر جاچکے تھے، ہم نے اٹھنا چاہا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہو، آپ ﷺ میرے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے درمیان بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں نے اپنے پیٹ پر آپ ﷺ کے دونوں پاؤں کی ٹھنڈک محسوس کی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میں تم دونوں کو اس سے بہتر چیز نہ بتا دوں، جو تم نے مجھ سے مانگی ہے، جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو 33 بار سبحان اللہ کہو اور 33 بار الحمدللہ کہو اور 34 بار اللہ اکبر کہو، یہ تم دونوں کے لیے خادم سے بہتر ہے۔ (صحيح بخاری، کتاب فضائل الصحابۃ، باب مناقب علیٰ 3/ 1358 ط: دار ابن كثير)

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مذکورہ واقعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خانہ داری کے وہ امور جنہیں عورت گھر میں رہ کر سرانجام دے سکتی ہے وہ اسے انجام دینے چاہییں، کیوں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جب اپنے والد مکرم رسول اللہ ﷺ سے گھر کے کاموں کی مشقت کی شکایت کی اور آنحضرت ﷺ سے خادم کا تقاضا کیا تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اس کا پابند نہیں کیا کہ وہ کسی خادم کا انتظام کریں یا خود گھریلو کام سرانجام دیں، اگر یہ شوہر کی ذمہ داری ہوتی تو آپ ﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس کا پابند فرماتے جس طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مہر کی ادائیگی کے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پابند فرمایا تھا۔ اسی طرح اَزواجِ مطہراتؓ اپنے اپنے گھروں کا کام خود کیا کرتی تھیں۔

لہٰذا گھر کے کام مثلاً کھانا پکانا، گھر کی صفائی وغیرہ عورت کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور دیانت کے پہلو سے عورت پر لازم ہے، کسی واقعی عذر مثلاً بیماری وغیرہ کے بغیر عورت کو ان کاموں سے انکار نہیں کرنا چاہیے، تاہم اگر کوئی عذر یا بیماری وغیرہ ہو تو شوہر کو چاہیے کہ اپنی مالی استطاعت کے مطابق گھر کے کاموں کے لیے خادمہ یا نوکرانی کا انتظام کرے۔

اسی طرح اگر عورت ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہو جہاں خواتین گھریلو کام خود نہ کرتی ہوں تو شوہر کے ذمے لازم ہے کہ وہ کسی خادمہ وغیرہ کا انتظام کرے ۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ اس معاملے میں شریعت نے متعلقہ علاقے اور خاندان کے عرف کی بھی رعایت رکھی ہے۔ (صحیح البخاری،کتاب النفقات، ‌باب عمل المرأۃ فی بيت زوجھا، 7/ 65، ط: المطبعۃ الکبری ٰ الأمیریۃ - فتح الباری،کتاب النفقات، باب خادم المرأۃ، 9/ 506، ط: دار المعرفۃ - ردّ المحتار، کتاب الطلاق، ‌‌باب النفقۃ، 3/ 579، ط: سعيد)

اقراء سے مزید