مولانا محمد راشد شفیع
انسانیت کی اصل خوبصورتی صرف اپنے لیے جینے میں نہیں، بلکہ دوسروں کے کام آنے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی، خیر خواہی اور تعاون کا حکم دیا ہے۔ جو شخص اللہ کی مخلوق کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتا ہے اور لوگوں کی آسانی کے لیے کوشش کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا مستحق بنتا ہے۔
ہمارے اکابر فرماتے ہیں کہ کسی ضرورت مند کا ہمارے پاس کسی کام کے لیے آنا بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک موقع اور نعمت ہے، اس کی قدر کرنی چاہیے۔ کیونکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کے لیے اپنے دوسرے بندوں کو ذریعہ بناتے ہیں۔ خدمتِ خلق صرف مال خرچ کرنے کا نام نہیں، بلکہ اچھا اخلاق، نرم گفتگو، رہنمائی اور کسی کی پریشانی دور کرنا بھی عظیم نیکی ہے۔ ایسے لوگ معاشرے میں محبت، اخوت اور سکون پیدا کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جو دل مخلوق کے لیے نرم ہو، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ہوتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم میں جا بجا خدمت خلق، باہم ایثار اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی و خیر خواہی کے بارے میں مختلف آیات میں ترغیب ارشاد فرمائی ہے۔ چناں چہ ارشاد باری تعالیٰ ہے"اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔"(سورۃ المائدہ، آیت: 2)
دوسرے مقام پر ارشاد ہے"اور وہ اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود محتاج ہوں۔"(سورۃ الحشر، آیت: 9)ایک اور مقام پر ارشادفرمایا:"اور جو شخص کسی ایک جان کو زندگی بخشتا ہے، گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔"(سورۃ المائدہ، آیت: 32)اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے"اور جو کچھ تم بھلائی کا کام کرتے ہو، بے شک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔"(سورۃ البقرہ، آیت: 215)
ان آیاتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے انسانیت کی بھلائی اور مخلوقِ خدا کی خدمت کو بڑی اہمیت دی ہے۔ نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرنا اہلِ ایمان کی شان ہے۔ دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر مقدم رکھنا اعلیٰ اخلاق اور ایمان کی علامت ہے۔ کسی انسان کی پریشانی دور کرنا اور اس کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے۔ بندہ جو بھی بھلائی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے باخبر رہتے ہیں اور اس کا اجر عطا فرماتے ہیں۔
خدمتِ خلق کے ذریعے معاشرے میں محبت، اخوت اور ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کی مخلوق کے کام آئے اور اس عظیم نیکی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔رسول اللہ ﷺنے خدمتِ خلق کے ایسے اعلیٰ نمونے قائم فرمائے کہ انسانی تاریخ ان کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہے۔ اعلانِ نبوت کے بعد آپ ﷺ کی پوری زندگی اللہ کی مخلوق کی خیر خواہی، ہمدردی اور مدد سے بھرپور نظر آتی ہے، بلکہ نبوت سے پہلے بھی آپ ﷺ لوگوں کے دکھ درد میں شریک رہتے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتے تھے۔
معاشرے کے یتیموں، کمزوروں، بیواؤں، محتاجوں اور ظلم کا شکار افراد کی مدد کرنا آپ ﷺ کے مبارک اوصاف میں شامل تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی تعلیمات کا ایک اہم مقصد انسانیت کی بھلائی اور مخلوقِ خدا کی خدمت ہے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انسان سے کہے گا: اے ابن آدم! میں بیمار پڑا رہا لیکن تو نے میری عیادت نہیں کی۔
انسان کہے گا: تو سارے جہاں کا پروردگار ہے تو کب بیمار تھا اور میں تیری عیادت کیسے کرتا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہے لیکن اس کے باوجود تو اس کی مزاج پرسی کے لیے نہیں گیا۔ اگر تو اس کے پاس جاتا تو مجھے وہاں پاتا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے کھانا نہیں دیا۔ انسان عرض کرے گا: اے رب العالمین! تو کب بھوکا تھا اور میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے یاد نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا طلب کیا تھا لیکن تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا۔
اگر تو نے اس کا سوال پورا کیا ہوتا تو آج اس کا ثواب یہاں پاتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پلایا۔ انسان عرض کرے گا: اے دونوں جہاں کے پروردگار! تو کب پیاسا تھا اور میں تجھے کیسے پانی پلاتا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فلاں بندے نے تجھ سے پانی طلب کیا لیکن تو نے اس کی پیاس بجھانے سے انکار کردیا تھا اگر تو نے اس کی پیاس بجھائی ہوتی تو آج اس کا ثواب یہاں پاتا۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ باب فضل عیادۃ المریض)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:.’’رحم کرنے والوں پر رحمن بھی رحم کرتا ہے، زمین والوں پر رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کرے گا‘‘۔(مسند احمد بن حنبل)خدمتِ خلق کا سب سے زیادہ فائدہ خدمت کرنے والے کو ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ غیب سے اس کی مدد فرماتا ہے۔
اس کے اپنے کام بھی ہوجاتے ہیں اور آخرت کا اجر اس کے علاوہ ہے۔ ارشاد نبوی ؐ ہے:’’نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد اس وقت تک کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے‘‘۔(سنن ترمذی، کتاب البر، باب ماجآء فی السترہ علیٰ المسلم)
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس سے کنارا کرتا ہے۔ جو آدمی اپنے بھائی کا کوئی مسئلہ حل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی بھی حاجت پوری کرتا رہتا ہے اور جس نے اپنے بھائی کے دکھ میں حصہ لیا، اللہ قیامت کے دن اس کی مشکل میں سے ایک مشکل کو دور کردے گا اور جس نے دنیا میں اپنے بھائی کی پردہ پوشی کی، اللہ قیامت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا‘‘۔(صحیح مسلم، کتاب البر، باب تحریم ظلم المسلم)
ان احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدمتِ خلق اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں انسانیت کی خیر خواہی، ہمدردی اور مدد کا عظیم نمونہ پیش فرمایا۔ اسلام نے بیماروں کی عیادت، بھوکوں کو کھانا کھلانے، پیاسوں کو پانی پلانے اور ضرورت مندوں کی حاجت پوری کرنے کو بڑی فضیلت عطا کی ہے۔
مخلوقِ خدا کی خدمت دراصل اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ خدمتِ خلق نہ صرف دنیا میں محبت اور سکون کا ذریعہ ہے بلکہ آخرت میں عظیم اجر کا سبب بھی ہے۔ صحابہ کرام ؓ بھی خدمت خلق کے جذبے سے ہروقت سرشار رہتے تھے، یہ نبی اکرم ﷺ کی صحبت اور تربیت اور آپ علیہ السلام کے ارشادات پر کامل عمل کا نتیجہ تھا۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بارے میں صحیح بخاری میں صراحت سے بیان کیاگیا ہے کہ وہ اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے تھے، جب تک کوئی مسکین ان کے کھانے میں شریک نہ ہوجائے۔(بخاری)
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں بھی خدمت خلق کے جذبے سے سرشار فرمائے اور نبی اکرم ﷺ کی اس سلسلہ میں جو تعلیمات ہیں ان پر عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔(آمین)