تفہیم المسائل
سوال: ایک بزرگ کا مزار پہلی مرتبہ اُن کے مریدوں نے بنوایا اور دوسری مرتبہ صاحبِ مزار کے چھوٹے بیٹے نے بنوایا، کیا یہ مزار وراثت میں شامل ہوگا، کیا گدی نشینی میں وراثت ہوتی ہے؟ ( ناصراحمد ، بلوچستان)
جواب: مساجد، مدارس، مزارات، سرائے یہ سب وقف ہوتے ہیں، وقف کے متعلق حکم یہ ہے کہ اُسے نہ تو بیچا جاسکتا ہے نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اُس میں وراثت جاری ہوتی ہے۔
علّامہ نظام الدین ؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ پس (وقف)لازم ہوجاتا ہے، نہ تو اُسے بیچا جاسکتا ہے، نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اُس میں وارثت جاری ہوتی ہے، ہدایہ میں اسی طرح ہے، (فتاویٰ عالمگیری، جلد2ص: 350)‘‘۔ پس اس کی رو سے مزار ترکہ یا وراثت نہیں ہے۔
تصوّف اور خانقاہی نظام میں گدی نشینی (سجادہ نشینی)وراثت نہیں ہے۔ شرعی اور تصوف کے اصولوں کے مطابق یہ کوئی خاندانی ملکیت یا ترکہ نہیں ہے، جو قانوناً یا خود کار طریقے سے اگلی نسل کو منتقل ہوجائے۔
سجادہ نشین وہی بن سکتا ہے، جو دینی علم، تقویٰ اور روحانی صلاحیت میں سب سے اہل، متقی اور پرہیزگار ہو، اگر کسی شیخ طریقت یا صاحبِ مزار کی نسبی اولاد میں کوئی ان صلاحیتوں کا حامل ہے، تو سعادت کی بات ہے، ورنہ گدی یا مسندِ ارشاد کوئی موروثی جائیداد نہیں ہے، جس میں قانونِ وراثت جاری ہوتا ہو۔
بزرگانِ دین کی اولاد دراصل درگاہ اور خانقاہ کی متولی ہوتی ہے، اگر اولاد میں بزرگوں کی تعلیمات، کردار اور روحانی نسبت موجود ہو، تو عموماً انہیں ہی جانشین چنا جاتا ہے۔ اگر کسی بزرگ کی اولاد نااہل ہو، تو مریدین اور علماء کی مشاورت سے خانقاہ کے باصلاحیت خلیفہ کو سجادہ نشین نامزد کیا جا سکتا ہے۔
مزارات، خانقاہوں اور درگاہوں کے معاملات چلانے کے لیے متولی کا انتخاب الگ ہوتا ہے، البتہ اگر صاحبِ مزار کی ملکیت میں کوئی ذاتی جائیداد (زمین، مکان، نقود وغیرہ) ہے، تو اس پر عام اسلامی قانونِ وراثت ہی نافذ ہوگا اور وہ جائداد اسلامی قانونِ وراثت کے مطابق شرعی وارثوں میں تقسیم ہوگی۔